‌صحيح البخاري - حدیث 5859

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ القُبَّةِ الحَمْرَاءِ مِنْ أَدَمٍ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، وَرَأَيْتُ بِلاَلًا أَخَذَ وَضُوءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:155]، وَالنَّاسُ يَبْتَدِرُونَ الوَضُوءَ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ، وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ شَيْئًا، أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5859

کتاب: لباس کے بیان میں باب: لال چمڑے کا خیمہ بنانا ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا ، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد وہب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) خدمت نبوی میں حاضر ہوا تو آپ چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں تشریف رکھے ہوئے تھے اور میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لیے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو لے لینے میںایک دوسرے کے آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ اگر کسی کو کچھ پانی مل جاتا ہے تو وہ اسے اپنے بدن پر لگا لیتا ہے اور جسے کچھ نہیں ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی کو لگانے کی کوشش کرتا ہے ۔
تشریح : اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعقیدت کس درجہ تھی۔ آپ کے وضو کے گرے ہوئے پانی کو وہ کس سبقت کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اثنائے بیان میں سرخ خیمے کاذکر آیا ہے یہی باب سے مطابقت ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت وعقیدت کس درجہ تھی۔ آپ کے وضو کے گرے ہوئے پانی کو وہ کس سبقت کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اثنائے بیان میں سرخ خیمے کاذکر آیا ہے یہی باب سے مطابقت ہے۔