‌صحيح البخاري - حدیث 5858

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ قِبَالاَنِ فِي نَعْلٍ، وَمَنْ رَأَى قِبَالًا وَاحِدًا وَاسِعًا صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، بِنَعْلَيْنِ لَهُمَا قِبَالاَنِ فَقَالَ ثَابِتٌ البُنَانِيُّ: «هَذِهِ نَعْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5858

کتاب: لباس کے بیان میں باب: ہر چپل میں دو دو تسمہ ہونا اور ایک تسمہ بھی کافی ہے مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں عیسیٰ بن طہمان نے خبردی ، بیان کیا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ دو جوتے لے کر ہمارے پاس باہر آئے جس میں دو تسمے لگے ہوئے تھے ۔ ثابت بنانی نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے ہیں ۔
تشریح : اسی آخری جملے سے باب کا دوسرا مضمون ثابت ہوا حضرت عبداللہ بن مبارک علمائے ربانیین میں سے ہیں۔ امام فقیہ حافظ حدیث زاہد پر ہیز گار سخی پختہ کار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خیر کی خصلتوں میں سے ایسی کوئی خصلت نہیں پیدا کی جو حضرت عبداللہ بن مبارک کو نہ عطا فرمائی ہو۔ بغداد میں درس حدیث دیا۔ سنہ 118ھ میں پیدا ہوئے سنہ181ھ میں وفات پائی۔ رب توفنی مسلما والحقنی بالصالحین ، آمین۔ اسی آخری جملے سے باب کا دوسرا مضمون ثابت ہوا حضرت عبداللہ بن مبارک علمائے ربانیین میں سے ہیں۔ امام فقیہ حافظ حدیث زاہد پر ہیز گار سخی پختہ کار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے خیر کی خصلتوں میں سے ایسی کوئی خصلت نہیں پیدا کی جو حضرت عبداللہ بن مبارک کو نہ عطا فرمائی ہو۔ بغداد میں درس حدیث دیا۔ سنہ 118ھ میں پیدا ہوئے سنہ181ھ میں وفات پائی۔ رب توفنی مسلما والحقنی بالصالحین ، آمین۔