‌صحيح البخاري - حدیث 5856

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ لاَ يَمْشِي فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لاَ يَمْشِي أَحَدُكُمْ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ، لِيُحْفِهِمَا جَمِيعًا، أَوْ لِيُنْعِلْهُمَا جَمِيعًا»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5856

کتاب: لباس کے بیان میں باب: اس بارے میں کہ صرف ایک پاؤں میں جوتا ہو ۔ دوسرا پیر ننگا ہو اس طرح چلنا منع ہے ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابو الزناد نے ، ان سے اعرج نے ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں کوئی شخص صرف ایک پاؤں میں جوتا پہن کر نہ چلے یا دونوں پاؤں ننگا رکھے یا دونوں میں جوتا پہنے ۔
تشریح : اس میں بڑی حکمت ہے اول تو یہ بد نمائی ہے کہ ایک پیر میں جوتا ہو دوسرا ننگا ہو۔ دوسرے اس میں پیر اونچے نیچے ہو کر موچ آجانے کا بھی خطرہ ہے۔ کانٹا لگ جانے کا خطرہ الگ ہے۔ بہر حال فرمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم حکمت سے خالی نہیں ہے۔ فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ۔ اس میں بڑی حکمت ہے اول تو یہ بد نمائی ہے کہ ایک پیر میں جوتا ہو دوسرا ننگا ہو۔ دوسرے اس میں پیر اونچے نیچے ہو کر موچ آجانے کا بھی خطرہ ہے۔ کانٹا لگ جانے کا خطرہ الگ ہے۔ بہر حال فرمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم حکمت سے خالی نہیں ہے۔ فعل الحکیم لا یخلو عن الحکمۃ۔