‌صحيح البخاري - حدیث 5855

كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ يَنْزِعُ نَعْلَهُ اليُسْرَى صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا انْتَعَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْدَأْ بِاليَمِينِ، وَإِذَا نَزَعَ فَلْيَبْدَأْ بِالشِّمَالِ، لِيَكُنِ اليُمْنَى أَوَّلَهُمَا تُنْعَلُ وَآخِرَهُمَا تُنْزَعُ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 5855

کتاب: لباس کے بیان میں باب: اس بیان میں کہ پہلے بائیں پیر کا جوتا اتارے بعد میں دائیں پیر کا ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابو الزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ا ن سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میںسے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے تاکہ داہنی جانب پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخر ہو ۔
تشریح : یہ اسلامی آداب ہیں جو بے شمار فوائد پر مشتمل ہیں ۔ دائیں اور بائیں کا امتیاز ہدایت شرعی کے مطابق ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ”احسن الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم “کا یہی مطلب ہے کہ بہترین طرز زندگی وہ ہے جس کا نمونہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا ہے۔ یہ اسلامی آداب ہیں جو بے شمار فوائد پر مشتمل ہیں ۔ دائیں اور بائیں کا امتیاز ہدایت شرعی کے مطابق ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ”احسن الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم “کا یہی مطلب ہے کہ بہترین طرز زندگی وہ ہے جس کا نمونہ جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیش فرمایا ہے۔