كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ يَبْدَأُ بِالنَّعْلِ اليُمْنَى صحيح حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، سَمِعْتُ أَبِي، يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ التَّيَمُّنَ فِي طُهُورِهِ، وَتَرَجُّلِهِ، وَتَنَعُّلِهِ»
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: اس بیان میں کہ پہنتے وقت داہنے پاؤں میں جوتا پہنے
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے اشعث بن سلیم نے خبردی کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، وہ مسروق سے بیان کرتے تھے اوران سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں کنگھا کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے ۔
تشریح :
ایک روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ہر کام میں آپ دائیں طرف کو پسند فرماتے مگر بعض کام مستثنیٰ ہیں جیسے جوتا اتارنا ، مسجد سے باہر نکلنا یا پاخانہ جانا وغیرہ ان سے پہلے بایاں پیر استعمال کرنا ہے۔ اسلام میں دائیں اور بائیں میں کافی امتیاز برتاگیا ہے۔ قرآن مجید نے اہل جنت کو ”اصحاب الیمین“ یعنی دائیں طرف والے اور اہل دوزخ کو ”اصحاب الشمال“ بائیں طرف والے کہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف مجھ کو بلکہ جملہ قارئین بخاری شریف کو روز محشر اصحاب الیمین میں داخلہ نصیب فرمائے ، آمین۔
ایک روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ہر کام میں آپ دائیں طرف کو پسند فرماتے مگر بعض کام مستثنیٰ ہیں جیسے جوتا اتارنا ، مسجد سے باہر نکلنا یا پاخانہ جانا وغیرہ ان سے پہلے بایاں پیر استعمال کرنا ہے۔ اسلام میں دائیں اور بائیں میں کافی امتیاز برتاگیا ہے۔ قرآن مجید نے اہل جنت کو ”اصحاب الیمین“ یعنی دائیں طرف والے اور اہل دوزخ کو ”اصحاب الشمال“ بائیں طرف والے کہا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف مجھ کو بلکہ جملہ قارئین بخاری شریف کو روز محشر اصحاب الیمین میں داخلہ نصیب فرمائے ، آمین۔