كِتَابُ اللِّبَاسِ بَابُ النِّعَالِ السِّبْتِيَّةِ وَغَيْرِهَا صحيح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»
کتاب: لباس کے بیان میں
باب: صاف چمڑے کی جوتی پہننا
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی مسلمہ نے ، انہوں نے کہا میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہاں ۔
تشریح :
اس روایت کی تطبیق ترجمہ باب سے مشکل ہے مگر حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عادت کے موافق اس سے استدلال کیا کیونکہ جوتی عام طور پر دونوں طرح کی جوتی کو شامل ہے یعنی اس چمڑے کی جوتی کو جس پر بال ہوں اور اس کو بھی جس کے بال نکال دیئے گئے ہوں ۔ پاک صاف ستھری جوتیوں میں نماز پڑھنا بلا شک جائز درست ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر یہ معمول تھا۔
اس روایت کی تطبیق ترجمہ باب سے مشکل ہے مگر حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عادت کے موافق اس سے استدلال کیا کیونکہ جوتی عام طور پر دونوں طرح کی جوتی کو شامل ہے یعنی اس چمڑے کی جوتی کو جس پر بال ہوں اور اس کو بھی جس کے بال نکال دیئے گئے ہوں ۔ پاک صاف ستھری جوتیوں میں نماز پڑھنا بلا شک جائز درست ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر یہ معمول تھا۔