‌صحيح البخاري - حدیث 584

كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ بَابُ الصَّلاَةِ بَعْدَ الفَجْرِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي [ص:121] أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ، وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ صَلاَتَيْنِ: نَهَى عَنِ الصَّلاَةِ بَعْدَ الفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ العَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ، وَعَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ، وَعَنْ الِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، يُفْضِي بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَعَنِ المُنَابَذَةِ، وَالمُلاَمَسَةِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 584

کتاب: اوقات نماز کے بیان میں باب: صبح کی نماز کے بعد نماز پڑھنا ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انھوں نے ابی اسامہ کے واسطے سے بیان کیا۔ انھوں نے عبیداللہ بن عمر سے، انھوں نے خبیب بن عبدالرحمن سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کی خرید و فروخت اور دو طرح کے لباس اور دو وقتوں کی نمازوں سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک اور نماز عصر کے بعد غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ( اور کپڑوں میں ) اشتمال صماء یعنی ایک کپڑا اپنے اوپر اس طرح لپیٹ لینا کہ شرم گاہ کھل جائے۔ اور ( احتباء ) یعنی ایک کپڑے میں گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ ( اور خرید و فروخت میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منابذہ اور ملامسہ سے منع فرمایا۔
تشریح : دن اور رات میں کچھ وقت ایسے ہیں جن میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ سورج نکلتے وقت اور ٹھیک دوپہر میں اور عصر کی نماز کے بعد غروب شمس تک اور فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک۔ ہاں اگر کوئی فرض نماز قضاء ہوگئی ہو اس کا پڑھ لینا جائز ہے۔ اور فجر کی سنتیں بھی اگر نماز سے پہلے نہ پڑھی جاسکی ہوں توان کو بھی بعد جماعت فرض پڑھا جاسکتاہے۔ جو لوگ جماعت ہوتے ہوئے فجر کی سنت پڑھتے رہتے ہیں وہ حدیث کے خلاف کرتے ہیں۔ دولباسوں سے مراد ایک اشتمال صماء ہے یعنی ایک کپڑے کا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ وغیرہ کچھ باہر نہ نکل سکیں اور احتباءایک کپڑے میں گوٹ مارکر اس طرح بیٹھنا کہ پاؤں پیٹ سے الگ ہوں اورشرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔ دو خرید وفروخت میں اوّل بیع منابذہ یہ ہے کہ مشتری یا بائع جب اپنا کپڑا اس پر پھینک دے تو وہ بیع لازم ہو جائے اور بیع ملامسہ یہ کہ مشتری کا یا مشتری بائع کا کپڑا چھولے تو بیع پوری ہو جائے۔ اسلام نے ان سب کو بند کر دیا۔ دن اور رات میں کچھ وقت ایسے ہیں جن میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ سورج نکلتے وقت اور ٹھیک دوپہر میں اور عصر کی نماز کے بعد غروب شمس تک اور فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک۔ ہاں اگر کوئی فرض نماز قضاء ہوگئی ہو اس کا پڑھ لینا جائز ہے۔ اور فجر کی سنتیں بھی اگر نماز سے پہلے نہ پڑھی جاسکی ہوں توان کو بھی بعد جماعت فرض پڑھا جاسکتاہے۔ جو لوگ جماعت ہوتے ہوئے فجر کی سنت پڑھتے رہتے ہیں وہ حدیث کے خلاف کرتے ہیں۔ دولباسوں سے مراد ایک اشتمال صماء ہے یعنی ایک کپڑے کا سارے بدن پر اس طرح لپیٹ لینا کہ ہاتھ وغیرہ کچھ باہر نہ نکل سکیں اور احتباءایک کپڑے میں گوٹ مارکر اس طرح بیٹھنا کہ پاؤں پیٹ سے الگ ہوں اورشرمگاہ آسمان کی طرف کھلی رہے۔ دو خرید وفروخت میں اوّل بیع منابذہ یہ ہے کہ مشتری یا بائع جب اپنا کپڑا اس پر پھینک دے تو وہ بیع لازم ہو جائے اور بیع ملامسہ یہ کہ مشتری کا یا مشتری بائع کا کپڑا چھولے تو بیع پوری ہو جائے۔ اسلام نے ان سب کو بند کر دیا۔