كِتَابُ الطِّبِّ بَابُ لاَ عَدْوَى صحيح حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَحَمْزَةُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، إِنَّمَا الشُّؤْمُ [ص:139] فِي ثَلاَثٍ: فِي الفَرَسِ، وَالمَرْأَةِ، وَالدَّارِ
کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
باب: امراض میں چھوت لگنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید نے ، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ اور حمزہ نے خبر دی اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوت لگ جانے کی کوئی حقیقت نہیں ہے بد شگونی کی کوئی اصل نہیں ۔ ( اگر ممکن ہوتی تو ) نحوست تین چیزوں میں ہوتی ۔ گھوڑے میں عورت میں اور گھر میں ۔
تشریح :
مگر درحقیقت ان میں بھی نہیں ہے۔ الا ان یشآءاللہ۔
مگر درحقیقت ان میں بھی نہیں ہے۔ الا ان یشآءاللہ۔