‌صحيح البخاري - حدیث 568

كِتَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلاَةِ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّوْمِ قَبْلَ العِشَاءِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ الحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي المِنْهَالِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَ العِشَاءِ وَالحَدِيثَ بَعْدَهَا»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 568

کتاب: اوقات نماز کے بیان میں باب: نماز عشاء سے پہلے سونا کیسا ہے ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، انھوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ابوالمنہال سے، انھوں نے ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے
تشریح : جب خطرہ ہو کہ عشاء کے پہلے سونے سے نماز باجماعت چلی جائے گی تو سونا جائز نہیں۔ ہردو احادیث میں جو آگے آ رہی ہے، یہی تطبیق بہتر ہے۔ جب خطرہ ہو کہ عشاء کے پہلے سونے سے نماز باجماعت چلی جائے گی تو سونا جائز نہیں۔ ہردو احادیث میں جو آگے آ رہی ہے، یہی تطبیق بہتر ہے۔