كِتَابُ الطَّلاَقِ بَابُ الطَّلاَقِ فِي الإِغْلاَقِ وَالكُرْهِ، وَالسَّكْرَانِ وَالمَجْنُونِ وَأَمْرِهِمَا، وَالغَلَطِ وَالنِّسْيَانِ فِي الطَّلاَقِ وَالشِّرْكِ وَغَيْرِهِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو اليَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدُ بْنُ المُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي المَسْجِدِ، فَنَادَاهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الآخَرَ قَدْ زَنَى - يَعْنِي نَفْسَهُ - فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الآخَرَ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لِشِقِّ وَجْهِهِ الَّذِي أَعْرَضَ قِبَلَهُ، فَقَالَ لَهُ ذَلِكَ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَتَنَحَّى لَهُ الرَّابِعَةَ، فَلَمَّا شَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ فَقَالَ: «هَلْ بِكَ جُنُونٌ؟» قَالَ: لاَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ» وَكَانَ قَدْ أُحْصِنَ
کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان باب: زبردستی اور جبراً طلاق دینے کا حکم ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ اسلم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف رکھتے تھے ۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کیا اور عرض کیا کہ انہوں نے زنا کر لیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا ہے لیکن وہ آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس رخ کی طرف مڑگیا ، جدھر آپ نے چہرہ مبارک پھیر لیا تھا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! دوسرے ( یعنی خود ) نے زنا کیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ بھی منہ موڑ لیا لیکن وہ پھر آنحضرت کے سامنے اس رخ کی طرف آگیا جدھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ موڑلیا تھا اور یہی عرض کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ان سے منہ موڑ لیا ، پھر جب چوتھی مرتبہ وہ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آگیا اور اپنے اوپر انہوں نے چار مرتبہ ( زنا کی ) شہادت دی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تم پاگل تو نہیں ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور سنگسار کرو کیونکہ وہ شادی شدہ تھے ۔