كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ بَابُ قَوْلِهِ {هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ} صحيح حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَنَا أَوَّلُ مَنْ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْ الرَّحْمَنِ لِلْخُصُومَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَيْسٌ وَفِيهِمْ نَزَلَتْ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ قَالَ هُمْ الَّذِينَ بَارَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ وَعُبَيْدَةُ وَشَيْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَعُتْبَةُ بْنُ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ
کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: آیت ھذان خصمان اختصموا الا یۃ کی تفسیر ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیما ن نے بیان کیا ، کہاکہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا ، انہوں نے ابو مجلز سے سن کر کہا کہ یہ خود ان ( ابو مجلز ) کا قول ہے ، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے حضرت علی بن ابی طالب نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا ۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لئے چہار زانو بیٹھوں گا ۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا “ بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی ۔ یعنی علی ، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے ( مسلمانوں کی طرف سے ) اور شیبہ بن ربیعہ ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نے ( کفار کی طرف سے )