‌صحيح البخاري - حدیث 4741

كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ 22سُورَةُ الحَجِّ{وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى} صحيح حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا آدَمُ يَقُولُ لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ فَيُنَادَى بِصَوْتٍ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُخْرِجَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ بَعْثًا إِلَى النَّارِ قَالَ يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ أُرَاهُ قَالَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ فَحِينَئِذٍ تَضَعُ الْحَامِلُ حَمْلَهَا وَيَشِيبُ الْوَلِيدُ وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى النَّاسِ حَتَّى تَغَيَّرَتْ وُجُوهُهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَمِنْكُمْ وَاحِدٌ ثُمَّ أَنْتُمْ فِي النَّاسِ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جَنْبِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا ثُمَّ قَالَ شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَكَبَّرْنَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ تَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَقَالَ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَقَالَ جَرِيرٌ وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ سَكْرَى وَمَا هُمْ بِسَكْرَى

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 4741

کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں باب: 22 سورۃ حج کی تفسیر آیت (( وتری الناس سکاریٰ )) کی تفسیر ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابو صالح نے اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ پاک قیامت کے دن حضرت آدم علیہ السلام سے فرمائے گا ۔ اے آدم ! وہ عرض کریں گے ، میں حاضر ہوں اے رب ! تیری فرمانبرداری کے لئے ۔ پروردگار آواز سے پکارے گا ( یا فرشتہ پروردگار کی طرف سے آواز دے گا ) اللہ حکم دیتا ہے کہ اپنی اولاد میں سے دوزخ کا جتھا نکالو ۔ وہ عرض کریں گے اے پروردگار ! دوزخ کا جتھا کتنا نکالوں ۔ حکم ہوگا ( راوی نے کہا میں سمجھتا ہوں ) ہر ہزار آدمیوں میں نو سو ننانوے ( گویا ہزار میں ایک جنتی ہوگا ) یہ ایسا سخت وقت ہوگا کہ پیٹ والی کا حمل گر جائے گا اور بچہ ( فکر کے مارے ) بوڑھا ہو جائے گا ( یعنی جو بچپن میں مرا ہو ) اورتو قیامت کے دن لوگوں کو ایسا دیکھے گا جیسے وہ نشہ میں متوالے ہو رہے ہیں حالانکہ ان کو نشہ نہ ہوگا بلکہ اللہ کا عذاب ایسا سخت ہوگا ( یہ حدیث جو صحابہ حاضر تھے ان پر سخت گزری ۔ ان کے چہرے ( مارے ڈر کے ) بدل گئے ۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تسلی کے لئے فرمایا ( تم اتنا کیوں ڈرتے ہو ) اگر یاجوج ماجوج کی ( جو کافر ہیں ) نسل تم سے ملائی جائے تو ان میں سے نو سو ننانوے کے مقابل تم میں سے ایک آدمی پڑے گا ۔ غرض تم لوگ حشر کے دن دوسرے لوگوں کی نسبت ( جو دوزخی ہوں گے ) ایسے ہو گے جیسے سفید بیل کے جسم پر ایک بال کالا ہوتا ہے یا جیسے کالے بیل کے جسم پر ایک دو بال سفید ہوتاہے اور مجھ کو امید ہے تم لوگ سارے جنتیوں کا چوتھائی حصہ ہوگے ( باقی تین حصوں میں اور سب امتیں ہوں گی ) یہ سن کر ہم نے اللہ اکبر کہا ۔ پھر آپ نے فرمایا نہیں بلکہ تم تہائی ہوگے ہم نے پھر نعرئہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا نہیں بلکہ آدھا حصہ ہوگے ( آدھے حصہ میں اور امتیں ہوں گی ) ہم نے پھر نعرئہ تکبیر بلند کیا اور ابواسامہ نے اعمش سے یوں روایت کیا تری الناس سکاریٰ وماھم بسکا ریٰ جیسے مشہور قرات ہے اور کہا کہ ہر ہزار میں سے نو سوننانوے نکا لو ( تو ان کی روایت حفص بن غیاث کے موافق ہے ) اور جریر بن عبدالحمید اور عیسیٰ بن یونس اور ابومعاویہ نے یوں نقل کیا وتری الناس سکری وما ھم بسکری ( حمزہ اور کسائی کی بھی یہی قرات ہے )
تشریح : طبرانی کی روایت میں اور زیادہ ہے کہ تم دو تہائی ہوگے ۔ ترمذی میں ہے کہ بہشتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی۔ ان میں اسی صفیں تمہاری ہوں گی تو دو ثلث مسلمان ہوئے ایک ثلث میں دوسری سب امتیں ہوں گی۔ مالک تیرا شکر ہم کہا ں تک ادا کریں تو نے دنیا کی نعمتیں سب ہم پر ختم کردیں۔ مال دیا اولاد دی علم دیا شرافت دی۔ جمال دیا کرامت دی۔ اب ان نعمتوں پر کیا تو آخرت میں ہم کو ذلیل کرے گا نہیں ہم کو تیرے فضل وکرم سے یہی امید ہے کہ تو ہماری آخرت بھی درست کردے گا اور جیسے دنیا میں تونے باعزت وحرمت رکھا ویسے دوسرے بندوں کے سامنے آخرت میں بھی ہم کو ذلیل نہیں کرے گا۔ ہم کو تیرا ہی آسرا ہے اور تیرے ہی فضل وکرم کے بھر وسے پر ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ یا اللہ دنیا میں ہم کو حاسدوں اور دشمنوں نے بہت تنگ کرنا چاہا ۔ مگر تو نے حدیث شریف کی برکت سے ہم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اوران سب سے ہم کو دولت اور نعمت زیادہ عنایت کی۔ ایسے ہی مرتے وقت بھی ہم کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھیو اور ہم کو ایمان کے ساتھ دنیا سے اٹھائیو آمین یا رب العالمین۔ طبرانی کی روایت میں اور زیادہ ہے کہ تم دو تہائی ہوگے ۔ ترمذی میں ہے کہ بہشتیوں کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی۔ ان میں اسی صفیں تمہاری ہوں گی تو دو ثلث مسلمان ہوئے ایک ثلث میں دوسری سب امتیں ہوں گی۔ مالک تیرا شکر ہم کہا ں تک ادا کریں تو نے دنیا کی نعمتیں سب ہم پر ختم کردیں۔ مال دیا اولاد دی علم دیا شرافت دی۔ جمال دیا کرامت دی۔ اب ان نعمتوں پر کیا تو آخرت میں ہم کو ذلیل کرے گا نہیں ہم کو تیرے فضل وکرم سے یہی امید ہے کہ تو ہماری آخرت بھی درست کردے گا اور جیسے دنیا میں تونے باعزت وحرمت رکھا ویسے دوسرے بندوں کے سامنے آخرت میں بھی ہم کو ذلیل نہیں کرے گا۔ ہم کو تیرا ہی آسرا ہے اور تیرے ہی فضل وکرم کے بھر وسے پر ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ یا اللہ دنیا میں ہم کو حاسدوں اور دشمنوں نے بہت تنگ کرنا چاہا ۔ مگر تو نے حدیث شریف کی برکت سے ہم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اوران سب سے ہم کو دولت اور نعمت زیادہ عنایت کی۔ ایسے ہی مرتے وقت بھی ہم کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھیو اور ہم کو ایمان کے ساتھ دنیا سے اٹھائیو آمین یا رب العالمین۔