كِتَابُ تَفْسِيرِ القُرْآنِ بَابُ قَوْلِهِ: {قَالَ: بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ} صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ ح و حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ النُّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ كُلٌّ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ الْحَدِيثِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ قُلْتُ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَجِدُ مَثَلًا إِلَّا أَبَا يُوسُفَ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ الْعَشْرَ الْآيَاتِ
کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں
باب: آیت (( بل سولت لکم انفسکم امرا....الایۃ )) کی تفسیر
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا کہ ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبد اللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا ، ان سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا ، کہا کہ میں زہری سے سنا ، انہوں نے عروہ بن زبیر ، سعید بن مسیب ، علقمہ بن وقاص اورعبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے اس واقعہ کے متعلق سناجس میں تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی نازل کی ۔ ان تمام لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کچھ کچھ ٹکڑابیان کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا کہ اگر تم بری ہوتو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری پاکی نازل کر دے گا لیکن اگر تو آلودہ ہو گئی ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کے حضور میں توبہ کر ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر کہا خدا کی قسم ! میری اور تمہاری مثال یوسف علیہ السلام کے والد جیسی ہے ( اور انہیں کی کہی ہوئی بات میں بھی دہراتی ہوں کہ ) ” سوصبر کرنا ( ہی ) اچھا ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے گا “ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکی میں سورۃ نور کی ان الذین جاءوا بالافک سے آخر تک دس آیات اتاریں ۔
تشریح :
اس حدیث کو حضرت امام بخاری اس باب میں اس لئے لائے کہ اس میں حضرت یوسف علےہ السلام کے والد کا قصہ مذکور ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رنج اور صدمے میں حضرت یعقوب علےہ السلام کا نام یاد نہ رہا توانہوں نے یوں کہہ دیا کہ حضرت یوسف علےہ السلام کے والد۔ حدیث اور باب میں یہی مطابقت ہے۔
اس حدیث کو حضرت امام بخاری اس باب میں اس لئے لائے کہ اس میں حضرت یوسف علےہ السلام کے والد کا قصہ مذکور ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رنج اور صدمے میں حضرت یعقوب علےہ السلام کا نام یاد نہ رہا توانہوں نے یوں کہہ دیا کہ حضرت یوسف علےہ السلام کے والد۔ حدیث اور باب میں یہی مطابقت ہے۔