‌صحيح البخاري - حدیث 4185

كِتَابُ المَغَازِي بَابُ غَزْوَةِ الحُدَيْبِيَةِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ المُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: 18] صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ: أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ [ص:128]، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ بَعْضَ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: لَوْ أَقَمْتَ العَامَ، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ لاَ تَصِلَ إِلَى البَيْتِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ البَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدَايَاهُ، وَحَلَقَ وَقَصَّرَ أَصْحَابُهُ، وَقَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ البَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ البَيْتِ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: مَا أُرَى شَأْنَهُمَا إِلَّا وَاحِدًا، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، وَسَعْيًا وَاحِدًا، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 4185

کتاب: غزوات کے بیان میں باب: غزوئہ حدیبیہ کا بیان ہم سے عبد اللہ بن محمد بن اسماءنے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے ‘ ان کو عبید اللہ بن عبد اللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی لڑکے نے ان سے کہا ‘ اگر اس سال آپ ( عمرہ کرنے ) نہ جاتے تو بہتر تھا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے تو کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا تھا ۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور وہیں ( حدیبیہ میں ) ذبح کر دیئے اور سر کے بال منڈوادیئے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بال چھوٹے کروالئے ‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوںکہ میں نے اپنے اوپر ایک عمرہ واجب کر لیا ہے ( اور اسی طرح تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی وہ واجب ہو گیا ) اگر آج مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کرلوں گا اور اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔ پھر تھوڑی دور چلے اور کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج کو بھی ضروری قرار دے لیا ہے اور کہا میری نظر میں تو حج اور عمرہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں ‘ پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور ایک سعی کی ( جس دن مکہ پہنچے ) اور دونوں ہی کو پورا کیا ۔