كِتَابُ المَغَازِي بَابُ غَزْوَةِ الحُدَيْبِيَةِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ المُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: 18] صحيح قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ وَعَنْ عَمِّهِ قَالَ بَلَغَنَا حِينَ أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرٍ فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ
کتاب: غزوات کے بیان میں
باب: غزوئہ حدیبیہ کا بیان
ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ آیت یٰا ایُّھَا النَّبِیُّ اذَا جَائَ کَ المُومِنَاتُ کے نازل ہونے کے بعدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کو پہلے آزماتے تھے اور ان کے چچا سے روایت ہے کہ ہمیں وہ حدیث بھی معلوم ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کرکے چلی آتی ہیں ان کے شوہروں کو وہ سب کچھ واپس کردیا جائے جو اپنی ان بیویوں کو وہ دے چکے ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابو بصیر ‘ پھر انہوں نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
تشریح :
چونکہ معاہدہ کی شرط میں عورتوں کا کوئی ذکر نہ تھا اس لیے جب عورتوں کا مسئلہ سامنے آیا تو خود قرآن مجید میں حکم نازل ہوا کہ عورتوں کو مشرکین کے حوالے نہ کیا جائے کہ اس سے معاہدہ کی خلاف ورزی لازم نہیں آتی بشرطیکہ تم کو یقین ہو جائے کہ وہ عورتیں محض ایمان و اسلام کی خاطر پورے ایمان کے ساتھ گھر چھوڑ کر آئی ہیں ۔
چونکہ معاہدہ کی شرط میں عورتوں کا کوئی ذکر نہ تھا اس لیے جب عورتوں کا مسئلہ سامنے آیا تو خود قرآن مجید میں حکم نازل ہوا کہ عورتوں کو مشرکین کے حوالے نہ کیا جائے کہ اس سے معاہدہ کی خلاف ورزی لازم نہیں آتی بشرطیکہ تم کو یقین ہو جائے کہ وہ عورتیں محض ایمان و اسلام کی خاطر پورے ایمان کے ساتھ گھر چھوڑ کر آئی ہیں ۔