كِتَابُ المَغَازِي بَابُ غَزْوَةِ الحُدَيْبِيَةِ وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ المُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ} [الفتح: 18] صحيح حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا قَالَ الْحُدَيْبِيَةُ قَالَ أَصْحَابُهُ هَنِيئًا مَرِيئًا فَمَا لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ قَالَ شُعْبَةُ فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ أَمَّا إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَعَنْ أَنَسٍ وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا فَعَنْ عِكْرِمَةَ
کتاب: غزوات کے بیان میں باب: غزوئہ حدیبیہ کا بیان مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ( آیت ) ” بے شک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی “ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے ( کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہوچکی ہیں ) لیکن ہمارا کیا ہوگا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ” اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیںگی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ۔ “ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اورمیں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ” بے شک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے ۔ “ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد ” ھنیئا مریئا “ ( یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے ) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے ۔