كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ قِصَّةِ الحَبَشِ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: يَا بَنِي أَرْفِدَةَ صحيح - وَقَالَتْ عَائِشَةُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي المَسْجِدِ، فَزَجَرَهُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُمْ، أَمْنًا بَنِي أَرْفِدَةَ يَعْنِي مِنَ الأَمْنِ»
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
حبشہ کے لوگوں کا بیان
اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھ کو پردہ میںرکھے ہوئے ہیں اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو نیزوں کا کھیل مسجد میں کررہے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں چھوڑدو ، بنی ارفدہ تم بے فکر ہوکر کھیلو ۔
تشریح :
یہ حدیث اس باب میں موصولاً مذکور ہے، ارفدہ حبشیوں کے جداعلی کانام تھا کہتے ہیں حبشی حبش بن کوش بن حام بن نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ایک زمانہ میں یہ سارے عرب پر غالب ہوگئے تھے اور ان کے بادشاہ ابرہہ نے کعبہ کو گرادینا چاہاتھا۔ یہاں یہ کھیل حبشیوں کا جنگی تعلیم اور مشق کے طورپر تھا۔ اس سے رقص کی اباحت پردلیل صحیح نہیں جو لہو ولعب کے طورپر ہو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنو اارفدہ کہہ کر پکارا یہی مقصود باب ہے ۔
یہ حدیث اس باب میں موصولاً مذکور ہے، ارفدہ حبشیوں کے جداعلی کانام تھا کہتے ہیں حبشی حبش بن کوش بن حام بن نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ ایک زمانہ میں یہ سارے عرب پر غالب ہوگئے تھے اور ان کے بادشاہ ابرہہ نے کعبہ کو گرادینا چاہاتھا۔ یہاں یہ کھیل حبشیوں کا جنگی تعلیم اور مشق کے طورپر تھا۔ اس سے رقص کی اباحت پردلیل صحیح نہیں جو لہو ولعب کے طورپر ہو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بنو اارفدہ کہہ کر پکارا یہی مقصود باب ہے ۔