كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ قِصَّةِ الحَبَشِ، وَقَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: يَا بَنِي أَرْفِدَةَ صحيح حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة، أن أبا بكر ـ رضى الله عنه ـ دخل عليها وعندها جاريتان في أيام منى تدففان وتضربان، والنبي صلى الله عليه وسلم متغش بثوبه، فانتهرهما أبو بكر، فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن وجهه، فقال دعهما يا أبا بكر، فإنها أيام عيد، وتلك الأيام أيام منى .
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں حبشہ کے لوگوں کا بیان ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں تشریف لائے تو وہاں ( انصارکی ) دولڑکیاں دف بجاکر گارہی تھیں ۔ یہ حج کے ایام منیٰ کا واقعہ ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روئے مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا : ابوبکر ! انہیں چھوڑد و ، یہ عید کے دن ہیں ، یہ منیٰ میں ٹھہرنے کے دن تھے ۔