كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ مَنِ انْتَسَبَ إِلَى آبَائِهِ فِي الإِسْلاَمِ وَالجَاهِلِيَّةِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ اللَّهِ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنْ اللَّهِ يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنْ اللَّهِ لَا أَمْلِكُ لَكُمَا مِنْ اللَّهِ شَيْئًا سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
باب: مسلمان یا غیر مسلم باپ دادوں پرنسبت کرنا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبردی ، کہا ہم کو ابوالزناد نے خبردی ، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عبدمناف کے بیٹو ! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو ( یعنی نیک کام کرکے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچالو ) اے عبدالمطلب کے بیٹو ! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو ، اے زبیر بن عوام کی والدہ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ، اے فاطمہ بنت محمد ! تم دونوں اپنی جانوں کو اللہ سے بچالو ۔ میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں کچھ اختیار نہیں رکھتا ۔ تم دونوں میرے مال میں جتنا چاہو مانگ سکتی ہو ۔
تشریح :
باب کی مناسبت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خاندانوں کو ان کے پرانے آباءو اجداد ہی کے ناموں سے پکارا، معلوم ہوا کہ ایسی نسبت عند اللہ معیوب نہیں ہے جیسے یہاں کے بیشتر مسلمان اپنے پرانے خاندانوں ہی کے نام سے اپنے کو موسوم کرتے ہیں۔ دوسری روایت میں یوں ہے اے عائشہ ! اے حفصہ ! اے ام سلمہ ! اے بنی ہاشم ! اپنی اپنی جانوں کو دوزخ ے چھڑاؤ۔ معلوم ہواکہ اگر ایمان نہ ہوتو پیغمبر علیہ السلام کی رشتہ داری قیامت میں کچھ کام نہ آئے گی۔ اس حدیث سے اس شرکیہ شفاعت کا بالکل رد ہوگیا جو بعض نام کے مسلمان انبیاءاور اولیاءکی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جس کے دامن کو چاہیں گے پکڑکر اپنی شفاعت کراکے بخشوا لیں گے۔ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے۔
باب کی مناسبت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خاندانوں کو ان کے پرانے آباءو اجداد ہی کے ناموں سے پکارا، معلوم ہوا کہ ایسی نسبت عند اللہ معیوب نہیں ہے جیسے یہاں کے بیشتر مسلمان اپنے پرانے خاندانوں ہی کے نام سے اپنے کو موسوم کرتے ہیں۔ دوسری روایت میں یوں ہے اے عائشہ ! اے حفصہ ! اے ام سلمہ ! اے بنی ہاشم ! اپنی اپنی جانوں کو دوزخ ے چھڑاؤ۔ معلوم ہواکہ اگر ایمان نہ ہوتو پیغمبر علیہ السلام کی رشتہ داری قیامت میں کچھ کام نہ آئے گی۔ اس حدیث سے اس شرکیہ شفاعت کا بالکل رد ہوگیا جو بعض نام کے مسلمان انبیاءاور اولیاءکی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ جس کے دامن کو چاہیں گے پکڑکر اپنی شفاعت کراکے بخشوا لیں گے۔ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے۔