‌صحيح البخاري - حدیث 3515

كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ صحيح حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ جُهَيْنَةُ وَمُزَيْنَةُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ خَيْرًا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَبَنِي أَسَدٍ وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ فَقَالَ رَجُلٌ خَابُوا وَخَسِرُوا فَقَالَ هُمْ خَيْرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَمِنْ بَنِي أَسَدٍ وَمِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3515

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں باب: اسلم ، غفار ، مزینہ ، جہینہ اوراشجع ہم سے قبیصہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ( دوسری سند ) امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمن بن مہدی نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے عبدالملک بن عمیرنے ، ان سے عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بتاو کیا جہینہ ، مزینہ ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم ، بنی اسد ، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ کےمقابلے میں بہتر ہیں ؟ ایک شخص ( اقرع بن حابس ) نے کہا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ چاروں قبیلے بنوتمیم ، بنو اسد ، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلوں سے بہتر ہیں ۔
تشریح : جاہلیت کے زمانہ میں جہینہ ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں سے کم درجہ کے سمجھے جاتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔ جاہلیت کے زمانہ میں جہینہ ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ وغیرہ قبیلوں سے کم درجہ کے سمجھے جاتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے میں پیش قدمی کی، اس لیے شرف فضیلت میں بنو تمیم وغیرہ قبائل سے یہ لو گ بڑھ گئے۔