كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ ذِكْرِ أَسْلَمَ وَغِفَارَ وَمُزَيْنَةَ وَجُهَيْنَةَ وَأَشْجَعَ صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْمِنْبَرِ غِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَعُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
باب: اسلم ، غفار ، مزینہ ، جہینہ اوراشجع
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے صالح نے ، ان سے نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر فرمایا : قبیلہ غفار کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت فرمادی اور قبیلہ اسلم کو اللہ تعالیٰ نے سلامت رکھا اور قبیلہ عصیہ نے اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔
تشریح :
قبیلہ غفار والے عہد جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے ، چوری کرتے، اسلام کے بعدا للہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کردیا اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کرکے غداری کی اور بئر معونہ والوں کو شہید کردیا، شہداءبیر معونہ کے حالات کسی دوسرے مقام پر تفصیل سے مذکور ہوچکے ہیں۔
قبیلہ غفار والے عہد جاہلیت میں حاجیوں کا مال چراتے ، چوری کرتے، اسلام کے بعدا للہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو معاف کردیا اور قبیلہ عصیہ والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کرکے غداری کی اور بئر معونہ والوں کو شہید کردیا، شہداءبیر معونہ کے حالات کسی دوسرے مقام پر تفصیل سے مذکور ہوچکے ہیں۔