كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
باب
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبردی ، انہیںزہری نے ، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر فرمارہے تھے ، آگاہ ہوجاو¿ اس طرف سے فساد پھوٹے گا ۔ آپ نے مشرق کی طرف اشارہ کرکے یہ جملہ فرمایا ، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے ۔
تشریح :
شیطان طلوع آفتاب کے وقت اپنا سر اس پر رکھ دیتا ہے تاکہ آفتاب پرستوں کا سجدہ شیطان کے لئے ہوجائے، علماءنے لکھا ہے یہ حدیث اشارہ ہے ترکوں کے فساد کا جو چنگیز خاں کے زمانے میں ہوا، انہوں نے مسلمانوں کو بہت تباہ کیا، بغداد کو لوٹا اور خلافت اسلامی کو برباد کردیا۔ ( وحیدی )
شیطان طلوع آفتاب کے وقت اپنا سر اس پر رکھ دیتا ہے تاکہ آفتاب پرستوں کا سجدہ شیطان کے لئے ہوجائے، علماءنے لکھا ہے یہ حدیث اشارہ ہے ترکوں کے فساد کا جو چنگیز خاں کے زمانے میں ہوا، انہوں نے مسلمانوں کو بہت تباہ کیا، بغداد کو لوٹا اور خلافت اسلامی کو برباد کردیا۔ ( وحیدی )