‌صحيح البخاري - حدیث 3509

كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْفِرَى أَنْ يَدَّعِيَ الرَّجُلُ إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ يُرِيَ عَيْنَهُ مَا لَمْ تَرَ أَوْ يَقُولُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3509

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں باب ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبدالواحد بن عبداللہ نصری نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے بڑا بہتان اور سخت جھوٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ کہے یا جو چیز اس نے خواب میں نہیں دیکھی ۔ اس کے دیکھنے کا دعویٰ کرے ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی حدیث منسوب کرے جو آپ نے نہ فرمائی ہو ۔
تشریح : جھوٹاخواب بیان کرنا بیداری میں جھوٹ بولنے سے بڑھ کر گناہ ہے کیوں کہ خواب نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ جھوٹا خواب بیان کرنے والا گویا اللہ پر بہتان لگاتا ہے، یہی حال جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کا ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتا ہے ، ایسا شخص اگر توبہ نہ کرے تو وہ زندہ دوزخی ہے۔ آج کل بہت سے لوگ شیخ ، سید ، پٹھان فرضی طور پر بن جاتے ہیں ان کو اس ارشاد بنوی پر غور کرنا چاہیے کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔ جھوٹاخواب بیان کرنا بیداری میں جھوٹ بولنے سے بڑھ کر گناہ ہے کیوں کہ خواب نبوت کے حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔ جھوٹا خواب بیان کرنے والا گویا اللہ پر بہتان لگاتا ہے، یہی حال جھوٹی حدیث بیان کرنے والے کا ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام لگاتا ہے ، ایسا شخص اگر توبہ نہ کرے تو وہ زندہ دوزخی ہے۔ آج کل بہت سے لوگ شیخ ، سید ، پٹھان فرضی طور پر بن جاتے ہیں ان کو اس ارشاد بنوی پر غور کرنا چاہیے کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔