كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابٌ صحيح بَاب حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ الْحُسَيْنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنْ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
باب
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے حسین بن واقد نے ، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا ، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرمارہے تھے کہ جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی ( نسبی ) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے ۔
تشریح :
مراد وہ شخص ہے جو ایسا کرنا درست سمجھے یا یہ بطور تغلیظ کے ہے، یا کفر سے ناشکری مراد ہے۔ واللہ اعلم۔
مراد وہ شخص ہے جو ایسا کرنا درست سمجھے یا یہ بطور تغلیظ کے ہے، یا کفر سے ناشکری مراد ہے۔ واللہ اعلم۔