‌صحيح البخاري - حدیث 3507

كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ نِسْبَةِ اليَمَنِ إِلَى إِسْمَاعِيلَ «مِنْهُمْ أَسْلَمُ بْنُ أَفْصَى بْنِ حَارِثَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ مِنْ خُزَاعَةَ» صحيح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ يَتَنَاضَلُونَ بِالسُّوقِ فَقَالَ ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا بِأَيْدِيهِمْ فَقَالَ مَا لَهُمْ قَالُوا وَكَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3507

کتاب: فضیلتوں کے بیان میں باب : یمن والوں کا حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں ہونا قبیلہ خزاعہ کی شاخ بنو اسلم بن افصی بن حارثہ بن عمرو بن عامر اہل یمن میں سے ہیں ۔ ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے یزید بن ابی عبید نے اوران سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے صحابہ کی طرف سے گزرے جو بازار میں تیر اندازی کررہے تھے تو آپ نے فرمایا : اے اولاد اسماعیل ! خوب تیر اندازی کرو کہ تمہارے بابا حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی تیر انداز تھے اور آپ نے فرمایا میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں ، یہ سن کر دوسری جماعت والوں نے ہاتھ روک لیے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ کیابات ہوئی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جب آپ دوسرے فریق کے ساتھ ہوگئے تو پھر ہم کیسے تیر اندازی کریں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم تیر اندازی جاری رکھو ۔ میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔
تشریح : یہ تیر اندازی کرنے والے باشندگان یمن سے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نسب کے لحاظ سے انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف منسوب فرمایا۔ اسی سے باب کا مطلب ثابت ہواکہ اہل یمن اولاد اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ اس حدیث کی روسے آج کل بندوق کی نشانہ بازی اور دوسرے جدید اسلحہ کا استعمال سیکھنا مسلمانوں کے لیے اسی بشارت میں داخل ہے ، مگر یہ فساد اور غارت گری اور بغاوت کے لیے نہ ہو ۔ ان اللہ لا یحب الاالمفسدین یہ تیر اندازی کرنے والے باشندگان یمن سے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نسب کے لحاظ سے انہیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف منسوب فرمایا۔ اسی سے باب کا مطلب ثابت ہواکہ اہل یمن اولاد اسماعیل علیہ السلام ہیں۔ اس حدیث کی روسے آج کل بندوق کی نشانہ بازی اور دوسرے جدید اسلحہ کا استعمال سیکھنا مسلمانوں کے لیے اسی بشارت میں داخل ہے ، مگر یہ فساد اور غارت گری اور بغاوت کے لیے نہ ہو ۔ ان اللہ لا یحب الاالمفسدین