كِتَابُ المَنَاقِبِ بَابُ مَنَاقِبِ قُرَيْشٍ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمْ اثْنَانِ
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
باب: قریش کی فضیلت کا بیان
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہاہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ خلافت اس وقت تک قریش کے ہاتھوں میں باقی رہے گی جب تک کہ ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں ۔
تشریح :
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس حدیث سے صاف نکلتا ہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے اور قیامت تک سوا قریشی کے غیر قریشی سے خلافت کی بیعت کرنا درست نہیں اور صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اگر کسی زمانہ میں قریشی کے سوا اور کسی قوم کا شخص بادشاہ بن بیٹھا ہے تو ا س نے قریشی خلیفہ سے اجازت لی ہے اور اس کا نائب بن کر رہا ہے۔ ( وحیدی )
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس حدیث سے صاف نکلتا ہے کہ خلافت قریش سے خاص ہے اور قیامت تک سوا قریشی کے غیر قریشی سے خلافت کی بیعت کرنا درست نہیں اور صحابہ کے زمانہ میں اس پر اجماع ہوچکا ہے اور اگر کسی زمانہ میں قریشی کے سوا اور کسی قوم کا شخص بادشاہ بن بیٹھا ہے تو ا س نے قریشی خلیفہ سے اجازت لی ہے اور اس کا نائب بن کر رہا ہے۔ ( وحیدی )