كِتَابُ المَنَاقِبِ بابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: 13] صحيح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ هَا هُنَا جَاءَتْ الْفِتَنُ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْجَفَاءُ وَغِلَظُ الْقُلُوبِ فِي الْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ عِنْدَ أُصُولِ أَذْنَابِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ فِي رَبِيعَةَ وَمُضَرَ
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ حجرات میں ارشاد
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا : ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے ، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا : اسی طرف سے فتنے اٹھیں گے یعنی مشرق سے اور بے وفائی اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں اور گایوں کی دم کے پاس چلاتے رہتے ہیں یعنی ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں ۔
تشریح :
ربیعہ اور مضر قبیلہ کے لوگ بہت مالدار اور زراعت پیشہ تھے، ایسے لوگوں کے دل سخت اور بے رحم ہوتے ہیں۔ اس حدیث اور اس کے بعد والی حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے یہ ہے کہ اس حدیث میں ربیعہ اور مضر کی برائی بیان کی تو دوسرے قبیلے والوں کی تعریف نکلی اور بعد والی حدیث میں یمن والوں کی تعریف ہے اور یہ ترجمہ باب ہے ( وحیدی ) فرمان نبوی کے مطابق آئندہ زمانوں میں مشرقی ممالک سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو بھی فتنے اٹھے وہ تفصیل طلب ہیں جنہوں نے اپنے دور میں اسلام کو شدیدترین نقصانات پہنچائے ۔ صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔
ربیعہ اور مضر قبیلہ کے لوگ بہت مالدار اور زراعت پیشہ تھے، ایسے لوگوں کے دل سخت اور بے رحم ہوتے ہیں۔ اس حدیث اور اس کے بعد والی حدیث کی مطابقت ترجمہ باب سے یہ ہے کہ اس حدیث میں ربیعہ اور مضر کی برائی بیان کی تو دوسرے قبیلے والوں کی تعریف نکلی اور بعد والی حدیث میں یمن والوں کی تعریف ہے اور یہ ترجمہ باب ہے ( وحیدی ) فرمان نبوی کے مطابق آئندہ زمانوں میں مشرقی ممالک سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو بھی فتنے اٹھے وہ تفصیل طلب ہیں جنہوں نے اپنے دور میں اسلام کو شدیدترین نقصانات پہنچائے ۔ صدق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔