كِتَابُ المَنَاقِبِ بابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: 13] صحيح حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي رَبِيبَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبُ بِنْتُ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ قُلْتُ لَهَا أَرَأَيْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَانَ مِنْ مُضَرَ قَالَتْ فَمِمَّنْ كَانَ إِلَّا مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ
کتاب: فضیلتوں کے بیان میں
باب: اللہ تعالیٰ کا سورۃ حجرات میں ارشاد
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا ، ان سے کلیب بن وائل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر پرورش رہ چکی تھیں ، کلیب نے بیان کیا کہ ہمیں نے زینب سے پوچھا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا ؟ انہوں نے کہا پھر کس قبیلہ سے تھا ؟ یقینا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ مضر کی شاخ بنی النضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے ۔
تشریح :
اور نضر بن کنانہ ایک شاخ ہے مضر کی، کیونکہ کنانہ خزیمہ کا بیٹاتھا اور خزیمہ مدرکہ کا اور مدرکہ الیاس کا اور الیاس مضر کا بیٹا تھا۔ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نسبی تعلق خاندان مضرسے ثابت ہوا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں۔ یہ ملک حبشہ میں پیداہوئیں، بطور ربیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت رہنے کا شرف حاصل کیا، ان کے خاوند کانام عبداللہ بن زمعہ ہے۔ اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہ ہیں، ان سے ایک جماعت نے حدیث روایت کی ہے۔
اور نضر بن کنانہ ایک شاخ ہے مضر کی، کیونکہ کنانہ خزیمہ کا بیٹاتھا اور خزیمہ مدرکہ کا اور مدرکہ الیاس کا اور الیاس مضر کا بیٹا تھا۔ اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نسبی تعلق خاندان مضرسے ثابت ہوا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بیٹی ہیں۔ یہ ملک حبشہ میں پیداہوئیں، بطور ربیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر تربیت رہنے کا شرف حاصل کیا، ان کے خاوند کانام عبداللہ بن زمعہ ہے۔ اپنے زمانے کی عورتوں میں سب سے زیادہ فقیہ ہیں، ان سے ایک جماعت نے حدیث روایت کی ہے۔