‌صحيح البخاري - حدیث 3488

كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ الْمَدِينَةَ آخِرَ قَدْمَةٍ قَدِمَهَا فَخَطَبَنَا فَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُ هَذَا غَيْرَ الْيَهُودِ وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ الزُّورَ يَعْنِي الْوِصَالَ فِي الشَّعَرِ تَابَعَهُ غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3488

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں باب ہم سے آدم بن ایاس نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیا ن کیا، ان سے عمروبن مرہ نے،کہا کہ میں نے سعید بن مسیب نے سنا ، آپ نےبیان کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نےمدینہ کےاپنے آخری سفر میں ہمیں خطاب فرمایا اور (خطبہ کےدوران ) آپ نے بالوں کاایک گچھا نکالا اورفرمایا ،میں سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کےسوا اور کوئی اس طرح نہ کرتا ہوگااور نبی کریمﷺ نےاس طرح ہال سنوارنے کانام ’’ الزور ،،(فریب وجھوٹ ) رکھا ہے۔ آپ کی مراد ، وصال فی الشعر ،سے تھی ۔یعنی بالوں میں جوڑلگانےسے تھی (جیسے اکثر عورتیں مصنوعی بالوں میں جوڑا کیا کرتی ہیں) آدم کےساتھ اس حدیث کوغندر نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے۔
تشریح : عورت کا ایسے مصنوعی بالوں سےزینت کرن منع ہے۔امام بخاری  نےیہاں پرکتاب الانبیاء کوختم فرمادیا جس میں احادیث مروفوعہ اورمکررات اورتعلیقات وغیرہ مل کر سب کی تعداد دو سونو احادیث ہیں۔ اہل علم تفصیل کےلیے فتح الباری کامطالعہ فرمائیں۔ عورت کا ایسے مصنوعی بالوں سےزینت کرن منع ہے۔امام بخاری  نےیہاں پرکتاب الانبیاء کوختم فرمادیا جس میں احادیث مروفوعہ اورمکررات اورتعلیقات وغیرہ مل کر سب کی تعداد دو سونو احادیث ہیں۔ اہل علم تفصیل کےلیے فتح الباری کامطالعہ فرمائیں۔