كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَحْنُ الْآخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ كُلِّ أُمَّةٍ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا وَأُوتِينَا مِنْ بَعْدِهِمْ فَهَذَا الْيَوْمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ فَغَدًا لِلْيَهُودِ وَبَعْدَ غَدٍ لِلنَّصَارَى
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں باب ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن طاؤس نےبیا ن کیا ، ان سے ان کےوالد نےاور ان سے ابوہریرہ کہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا، ہم (دنیا میں ) تمام امتوں کےآخر میں آئے لیکن (قیامت کےدن ) تمام امتوں سے آگے ہون گے ۔صرف اتنا فرق ہےکہ انہیں پہلے کتاب د ی گئی اورہمیں بعدمیں ملی اور یہی وہ (جمعہ کا) دن ہے جس کےبارے میں لوگوں نےاختلاف کیا۔ یہودیوں نےتو اسے اس کےدوسرے دن( ہفتہ کو) کرلیا اور نصاریٰ نےتیسرے دن (اتوارکو)