كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنْ الْخُيَلَاءِ خُسِفَ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں
باب
ہم سے بشربن محمد نےبیان کیا ،کہا ہم کوعبداللہ بن مبارک نےخبردی ، کہا ہم کو یونس نے خبردی ، انہیں زہری نے، انہیں سالم نےخبردی اور ان سے ابن عمر ؓ نےبیان کیاکہ نبی کریم ﷺ نےفرمایا کہ ایک شخص تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند زمین سےگھسیٹتا ہوا جارہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا اوراب وہ قیامت تک یوں ہی زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔ یونس کےساتھ اس حدیث کوعبدالرحمن بن خالد نےبھی زہری سےروایت کیا ہے۔
تشریح :
اس رویت میں قارون مرادہے جس کےدھنسائے جانےکا ذکر قرآن میں بھی ہے۔
اس رویت میں قارون مرادہے جس کےدھنسائے جانےکا ذکر قرآن میں بھی ہے۔