‌صحيح البخاري - حدیث 3384

كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ} [يوسف: 7] صحيح حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ المُحَبَّرِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ»، قَالَتْ: إِنَّهُ رَجُلٌ أَسِيفٌ، مَتَى يَقُمْ [ص:150] مَقَامَكَ رَقَّ. فَعَادَ فَعَادَتْ. قَالَ شُعْبَةُ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ «إِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3384

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں باب : ( حضرت یوسف علیہ السلام کا بیان ) اللہ پاک نے فرمایا کہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں پوچھنے والوں کیلئے قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا‘ انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) ان سے فرمایا‘ ابو بکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں‘ عائشہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ بہت نرم دل ہیں‘ آپ کی جگہ جب کھڑے ہوں گے تو ان پر رقت طاری ہوجائے گی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ یہی حکم دیا ۔ لیکن انہوں نے بھی دوبارہ یہی عذر بیان کیا ‘ شعبہ نے بیان کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ تم تو یوسف علیہ السلام کی ساتھ والیاں ہو ۔ ( ظاہر میں کچھ باطن میں کچھ ) ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہو نماز پڑھائیں ۔