‌صحيح البخاري - حدیث 3383

كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {لَقَدْ كَانَ فِي يُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آيَاتٌ لِلسَّائِلِينَ} [يوسف: 7] صحيح حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: «أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ» قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ» قَالُوا: لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَعَنْ مَعَادِنِ العَرَبِ تَسْأَلُونِي؟ النَّاسُ مَعَادِنُ، خِيَارُهُمْ فِي الجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الإِسْلاَمِ، إِذَا فَقُهُوا»، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3383

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں باب : ( حضرت یوسف علیہ السلام کا بیان ) اللہ پاک نے فرمایا کہ بیشک یوسف اور ان کے بھائیوں کے واقعات میں پوچھنے والوں کیلئے قدرت کی بہت سی نشانیاں ہیں مجھ سے عبیدبن اسماعیل نے بیان کیا‘ کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا‘ ان سے عبیداللہ نے بیان کیا‘ انہیں سعید بن ابی سعید نے خبر دی اور انہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف آدمی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا ‘ جو اللہ کا خوف زیادہ رکھتا ہو‘ صحابہ نے عر ض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن بنی اللہ بن خلیل اللہ ہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا تم لوگ عرب کے خانوادوں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو ۔ دیکھو ! لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے ( کسی کان میں سے اچھا مال نکلتا ہے کسی میں سے برا ) جو لوگ تم میں سے زمانہ جاہلیت میں شریف اور بہتر اخلاق کے تھے وہی اسلام کے بعد بھی اچھے اورشریف ہیں بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں ۔مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا‘ کہا ہم کو عبدہ نے خبردی‘ انہیں عبیداللہ نے‘ انہیں سعید نے‘ انہیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ۔
تشریح : معلوم ہوا کہ اسلام میں بنیاد شرافت دینداری اور دین کی سمجھ حاصل کرنا ہے جسے لفظ فقاہت سے یاد کیا گیا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے من یرد اﷲ بہ خیر ا یفقھہ فی الدین اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے پر نظر کرم کرتا ہے اسے دین کی فقاہت یعنی سمجھ عطا کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں امت کے سامنے زندہ مثالیں محدثین کرام کی ہیں جن کو اللہ پاک نے دینی فقاہت سے نوازہ کہ آج اسلام ان ہی کی مساعی جمیلہ سے زندہ ہے کہ سیرت نبوی احادیث صحیحہ کی روشنی میں مکمل طور پر مطالعہ کی جاسکتی ہے۔ اللہ پاک جملہ محدثین کرام ومجتہدین عظام کو امت کی طرف سے ہزاروں ہزار جزائیں عطافرمائے اور قیامت کے دن سب کو فردوس بریں میں جمع کرے اور مجھ ناچیز حقیر گنہگار ادنیٰ خادم اور میرے قدر دانوں کو باری تعالیٰ حشر کے میدان میں اپنے حبیب پاک اور جملہ بزرگان خاص کی رفاقت عطا فرمائے آمین۔ معلوم ہوا کہ اسلام میں بنیاد شرافت دینداری اور دین کی سمجھ حاصل کرنا ہے جسے لفظ فقاہت سے یاد کیا گیا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے من یرد اﷲ بہ خیر ا یفقھہ فی الدین اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے پر نظر کرم کرتا ہے اسے دین کی فقاہت یعنی سمجھ عطا کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں امت کے سامنے زندہ مثالیں محدثین کرام کی ہیں جن کو اللہ پاک نے دینی فقاہت سے نوازہ کہ آج اسلام ان ہی کی مساعی جمیلہ سے زندہ ہے کہ سیرت نبوی احادیث صحیحہ کی روشنی میں مکمل طور پر مطالعہ کی جاسکتی ہے۔ اللہ پاک جملہ محدثین کرام ومجتہدین عظام کو امت کی طرف سے ہزاروں ہزار جزائیں عطافرمائے اور قیامت کے دن سب کو فردوس بریں میں جمع کرے اور مجھ ناچیز حقیر گنہگار ادنیٰ خادم اور میرے قدر دانوں کو باری تعالیٰ حشر کے میدان میں اپنے حبیب پاک اور جملہ بزرگان خاص کی رفاقت عطا فرمائے آمین۔