‌صحيح البخاري - حدیث 3381

كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ} [هود: 25] صحيح حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، حَدَّثَنَا أَبِي، سَمِعْتُ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ، إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3381

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں باب : سورۃ نوح میں اللہ کا یہ فرمانا مجھ سے عبداللہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے وہب نے بیان کیا‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا‘ انہوں نے یونس سے سنا‘ انہوں نے زہری سے‘ انہوں نے سالم سے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا توروتے ہوئے گزرو ۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے ۔
تشریح : اگر چہ یہ حدیث تمام مطلق بدکرداروں کو شامل ہے مگر آپ نے یہ حدیث اس وقت فرمائی جب آپ حجر پر سے گزرے جہاں ثمود کی قوم بستی تھی جیسے پچھلی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر چہ یہ حدیث تمام مطلق بدکرداروں کو شامل ہے مگر آپ نے یہ حدیث اس وقت فرمائی جب آپ حجر پر سے گزرے جہاں ثمود کی قوم بستی تھی جیسے پچھلی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔