كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ} [هود: 25] صحيح حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالحِجْرِ قَالَ: «لاَ تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ» ثُمَّ تَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں
باب : سورۃ نوح میں اللہ کا یہ فرمانا
ہم سے محمد نے بیان کیا‘ کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی‘ انہیں معمر نے‘ ان سے زہری نے بیان کیا‘ کہا مجھ کو سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد ( عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام حجر سے گزرے تو فرمایا کہ ان لوگوں کی بستی میں جنہوں نے ظلم کیا تھا نہ داخل ہو‘ لیکن اس صورت میں کہ تم روتے ہوئے ہو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آجائے جو ان پر آیا تھا ۔ پھر آپ نے اپنی چادر چہرئہ مبارک پر ڈال لی ۔ آپ اس وقت کجاوے پر تشریف رکھتے تھے ۔
تشریح :
اللہ کے عذاب سے کس قدر ڈرنا چایئے اور خدا اوررسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلم کھلا مخالفت کرنے والوں سے کتنا بچنا چاہئے‘ یہ مذکورہ حدیثوں سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی بستی کا پانی بھی نہ لینے دیا اور اس پانی سے جو آٹا گوندھ لیا تھا‘ اسے بھی جانوروں کے آگے ڈال دینے کا حکم آپ نے فرمایا۔ اللھم احفظنا۔
اللہ کے عذاب سے کس قدر ڈرنا چایئے اور خدا اوررسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلم کھلا مخالفت کرنے والوں سے کتنا بچنا چاہئے‘ یہ مذکورہ حدیثوں سے ظاہر ہے کہ ان لوگوں کی بستی کا پانی بھی نہ لینے دیا اور اس پانی سے جو آٹا گوندھ لیا تھا‘ اسے بھی جانوروں کے آگے ڈال دینے کا حکم آپ نے فرمایا۔ اللھم احفظنا۔