كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ {أَمْ كُنْتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ المَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ} [البقرة: 133] الآيَةَ صحيح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ المُعْتَمِرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ المَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ؟ قَالَ «أَكْرَمُهُمْ أَتْقَاهُمْ» قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ، ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ، ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ» قَالُوا: لَيْسَ [ص:148] عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ، قَالَ: «فَعَنْ مَعَادِنِ العَرَبِ تَسْأَلُونِي» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَخِيَارُكُمْ فِي الجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الإِسْلاَمِ إِذَا فَقُهُوا»
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں
باب : حضرت یعقوب علیہ السلام کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا سورۃ بقرہ میں یوں فرمانا کہ ” کیا تم لوگ اس وقت موجو دتھے جب یعقوب علیہ السلام کی موت حاضر ہوئی ۔ آخر آیت ونحن لہ مسلمون تک
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اوران سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا‘ سب سے زیادہ شریف کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف بنی اللہ بن نبی اللہ ( یعقوب ) بن نبی اللہ ( اسحاق ) بن خلیل اللہ ( ابراہیم علیہ السلام ) تھے صحابہ نے عرض کیا ‘ ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ عرب کے شرفاءکے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کہ پھر جاہلیت میں جو لوگ شریف اور اچھے عادات و اخلاق کے تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف اور اچھے سمجھے جائیں گے جب کہ وہ دین کی سمجھ بھی حاصل کریں ۔
تشریح :
روایت میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا ذکر آیا ہے یہی وجہ مناسبت باب ہے۔
روایت میں حضرت یعقوب علیہ السلام کا ذکر آیا ہے یہی وجہ مناسبت باب ہے۔