‌صحيح البخاري - حدیث 3373

كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {وَاذْكُرْ فِي الكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الوَعْدِ } [مريم: 54] صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَفَرٍ مِنْ أَسْلَمَ يَنْتَضِلُونَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ارْمُوا بَنِي إِسْمَاعِيلَ، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا ارْمُوا، وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلاَنٍ» قَالَ: فَأَمْسَكَ أَحَدُ الفَرِيقَيْنِ بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لَكُمْ لاَ تَرْمُونَ». فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ، قَالَ: «ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3373

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں باب : ( حضرت اسماعیل علیہ السلام کا بیان ) اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ” اور یاد کرو اسماعیل کو کتاب میں بے شک وہ وعدے کے سچے تھے ۔ “ ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے اوران سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیا ن کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کی ایک جماعت سے گزرے جو تیراندازی میں مقابلہ کررہی تھی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ اے بنو اسماعیل ! تیر اندازی کئے جاؤ کیونکہ تمہارے بزرگ دادا بھی تیر انداز تھے اور میں بنو فلاں کے ساتھ ہوں ۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی دوسرے فریق نے تیر اندازی بند کردی ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ کیا بات ہوئی‘ تم لوگ تیر کیوں نہیں چلاتے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جب آپ فریق مقابل کے ساتھ ہوگئے تو اب ہم کس طرح تیر چلا سکتے ہیں ۔ اس پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مقابلہ جاری رکھو‘ میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔
تشریح : روایت میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا ذکر ہے۔ باب اورحدیث میں یہی وجہ مناسبت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ باپ دادا کے اچھے کاموں کو فخر کے ساتھ اپنانا بہتر ہے۔ روایت میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کا ذکر ہے۔ باب اورحدیث میں یہی وجہ مناسبت ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ باپ دادا کے اچھے کاموں کو فخر کے ساتھ اپنانا بہتر ہے۔