كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ} صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسَعِيدِ بْنِ المُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَحْنُ أَحَقُّ بِالشَّكِّ مِنْ إِبْرَاهِيمَ إِذْ قَالَ: {رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِي المَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي} [البقرة: 260] وَيَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا، لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ، وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ طُولَ مَا لَبِثَ يُوسُفُ، لَأَجَبْتُ الدَّاعِيَ
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں
باب : اللہ تعالیٰ نے سورۃ حجر میں فرمایا‘ اے پیغمبر! ان لوگوں کو ابراہیم علیہ السلام کے مہمانوں کا قصہ سنائیے
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا‘ کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی‘ انہیں ابن شہاب نے‘ انہیں ابو سلمہ بن عبدالرحمن اور سعید بن مسیب نے ‘ انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقابلے میں شک کرنے کے زیادہ مستحق ہیں جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ میرے رب ! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا‘ کہا کیاتم ایمان نہیں لائے‘ انہوں نے عرض کیا کہ کیوں نہیں‘ لیکن یہ صرف اس لئے تاکہ میرے دل کو اور زیادہ اطمینان ہوجائے اور اللہ لوط علیہ السلام پر کہ وہ زبردست رکن ( یعنی خداوندکریم ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید خانے میں رہتا جتنی مدت تک یوسف علیہ السلام رہے تھے تو میں بلانے والے کے بات ضرور مان لیتا ۔
تشریح :
یعنی قید سے چھوٹنا غنیمت سمجھتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر پر آفرین ہے کہ اتنی مدت تک قید میں رہنے کے بعد بھی اس بلانے والے کے بلاوے پر نہ نکلے جو بادشاہ کی طرف سے آیا تھا اور پہلے اپنی صفائی کے خواہاں ہوئے۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تواضع کی راہ سے فرمایا اور حضرت یوسف علیہ السلام کا مرتبہ بڑھانے کے لئے۔ ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صبرواستقلال بھی کچھ کم نہ تھا۔ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری ( وحیدی )
یعنی قید سے چھوٹنا غنیمت سمجھتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر پر آفرین ہے کہ اتنی مدت تک قید میں رہنے کے بعد بھی اس بلانے والے کے بلاوے پر نہ نکلے جو بادشاہ کی طرف سے آیا تھا اور پہلے اپنی صفائی کے خواہاں ہوئے۔ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تواضع کی راہ سے فرمایا اور حضرت یوسف علیہ السلام کا مرتبہ بڑھانے کے لئے۔ ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صبرواستقلال بھی کچھ کم نہ تھا۔ آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری ( وحیدی )