كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ المِنْهَالِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَوِّذُ الحَسَنَ وَالحُسَيْنَ، وَيَقُولُ: إِنَّ أَبَاكُمَا كَانَ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں
باب
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا‘ ان سے منصور نے‘ ان سے منہال نے‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کے لئے پناہ طلب کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے بزرگ دادا ( ابراہیم علیہ السلام ) بھی ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ اسماعیل اوراسحاق علیہ السلام کے لئے مانگا کرتے تھے “ میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے پورے کلمات کے ذریعہ ہر ایک شیطان سے اور ہر زہریلے جانور سے اور ہرنقصان پہنچانے والی نظر بد سے ۔
تشریح :
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے یہاں تک جس قدر احادیث اس باب کے تحت میں بیان فرمائی ہیں ان سب میں کسی نہ کسی پہلو سے حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم کا ذکر موجود ہے اور باب اور احادیث میں یہی وجہ مناسبت ہے۔ ضمنی طور پر احادیث میں اور بھی بہت سے مسائل کا ذکر آگیا ہے جو تدبر کرنے سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ درود سے مراد دین و دنیا کی وہ برکتیں جو اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کی اولاد کو عطا فرمائیں کہ آج بھی بیشتر اقوام عالم کانسلی تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے اور بلاشک اللہ پاک نے یہی برکات حضرت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہیں کہ آپ کا کلمہ پڑھنے والے آج روئے زمین پر کروڑہاکروڑ کی تعداد میں موجود ہیں اور روزانہ پنج وقتہ فضائے آسمانی میں آپ کی رسالت حقہ کا اعلان اس شان سے کیا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام پیشوایان مذہب میں نظیر ناممکن ہے۔ اللھم صل علی محمد وعل آل محمد وبارک وسلم آمین۔
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے یہاں تک جس قدر احادیث اس باب کے تحت میں بیان فرمائی ہیں ان سب میں کسی نہ کسی پہلو سے حضرت ابراہیم اور آل ابراہیم کا ذکر موجود ہے اور باب اور احادیث میں یہی وجہ مناسبت ہے۔ ضمنی طور پر احادیث میں اور بھی بہت سے مسائل کا ذکر آگیا ہے جو تدبر کرنے سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔ درود سے مراد دین و دنیا کی وہ برکتیں جو اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اوران کی اولاد کو عطا فرمائیں کہ آج بھی بیشتر اقوام عالم کانسلی تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملتا ہے اور بلاشک اللہ پاک نے یہی برکات حضرت سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی ہیں کہ آپ کا کلمہ پڑھنے والے آج روئے زمین پر کروڑہاکروڑ کی تعداد میں موجود ہیں اور روزانہ پنج وقتہ فضائے آسمانی میں آپ کی رسالت حقہ کا اعلان اس شان سے کیا جاتا ہے کہ دنیا کے تمام پیشوایان مذہب میں نظیر ناممکن ہے۔ اللھم صل علی محمد وعل آل محمد وبارک وسلم آمین۔