كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں
باب
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا ہم کو مالک بن انس نے خبر دی ۔ انہیں عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمر و بن حزم نے ‘ انہیں ان کے والد نے‘ انہیں عمروبن سلیم زرقی نے ‘ انہوں نے کہا مجھ کو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجا کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں کہا کرو ” اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمدپر اور ان کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر جیساکہ تو نے رحمت نازل کیا ابراہیم پر اور اپنی برکت نازل کیامحمد پر اور ان کی بیویوں اور اولاد پر جیسا کہ تونے برکت نازل فرمائی آل ابراہیم پر ۔ بے شک تو انتہائی خوبیوں والا اور عظمت والا ہے ۔
تشریح :
آل سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ آپ کے اہل بیت یعنی حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہ ہیں۔ درود سے مراد یہ ہے کہ آپ کی نسل برکت کے ساتھ دنیا میں ہمیشہ باقی رہے۔
آل سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر زکوٰۃ حرام ہے۔ آپ کے اہل بیت یعنی حضرت علی اور حضرت فاطمہ اور حضرت حسن وحسین رضی اللہ عنہ ہیں۔ درود سے مراد یہ ہے کہ آپ کی نسل برکت کے ساتھ دنیا میں ہمیشہ باقی رہے۔