كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى المُطَّلِبِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ فَقَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا» وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں
باب
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے مطلب کے آزاد کردہ غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ اے اللہ ! حضرات ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو حرمت والا شہرقرار دیا تھا اور میں مدینہ کے دو پتھریلے علاقے کے درمیانی علاقے کے حصے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں ۔ اس حدیث کو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاہے ۔
تشریح :
احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتاہے۔ محبت رکھنا حقیقتاً مراد ہے۔ کیوں کہ اللہ پاک نے اپنی ہر مخلوق کو اس کی شان کے مطابق علم و ادراک دیا ہے۔ جیسے کہ آیت وان من شي الا ےسبح بحمدہ ( بنی اسرائیل:44 ) میں مراد ہے۔ حدیث ہٰذا سے مدینہ المنورہ کی حرمت بھی مثل مکۃ المکرہ ثابت ہوئی۔ جو حضرات حرمت مدینہ کے قائل نہیں ہیں ان کو اس پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ حدیث کتاب الحج میں گزرچکی ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے اس لیے اس باب میں لائے۔
احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتاہے۔ محبت رکھنا حقیقتاً مراد ہے۔ کیوں کہ اللہ پاک نے اپنی ہر مخلوق کو اس کی شان کے مطابق علم و ادراک دیا ہے۔ جیسے کہ آیت وان من شي الا ےسبح بحمدہ ( بنی اسرائیل:44 ) میں مراد ہے۔ حدیث ہٰذا سے مدینہ المنورہ کی حرمت بھی مثل مکۃ المکرہ ثابت ہوئی۔ جو حضرات حرمت مدینہ کے قائل نہیں ہیں ان کو اس پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ حدیث کتاب الحج میں گزرچکی ہے۔ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے اس لیے اس باب میں لائے۔