‌صحيح البخاري - حدیث 3360

كِتَابُ أَحَادِيثِ الأَنْبِيَاءِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ} [هود: 25] صحيح حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ {الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا} [الأنعام: 82] إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّنَا لاَ يَظْلِمُ نَفْسَهُ؟ قَالَ: لَيْسَ كَمَا تَقُولُونَ {لَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ} [الأنعام: 82] بِشِرْكٍ، أَوَلَمْ تَسْمَعُوا إِلَى قَوْلِ لُقْمَانَ لِابْنِهِ يَا بُنَيَّ لاَ تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 3360

کتاب: انبیاء ؑ کے بیان میں باب : سورۃ نوح میں اللہ کا یہ فرمانا ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری ” جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی قسم کے ظلم کی ملاوٹ نہ کی “ تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم میں ایسا کون ہوگا جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہوگا ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واقعہ وہ نہیں جو تم سمجھتے ہو ” جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی “ ( میں ظلم سے مراد ) شرک ہے کیا تم نے لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو یہ نصیحت نہیں سنی کہ ” اے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا ، بے شک شرک بہت ہی بڑا ظلم ہے “ ۔
تشریح : کرمانی نے کہا کہ آیت مذکورہ میں بعد ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ یہی باب سے مناسبت ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت الذین امنوا ولم یلبسوآ اےمانہم بظلم ( الانعام:82 ) حضرت ابراہیم ہی کا مقولہ ہے اور حاکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکالا کہ یہ آیت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھ والوں کے حق میں ہے۔ کرمانی نے کہا کہ آیت مذکورہ میں بعد ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ یہی باب سے مناسبت ہے۔ بعض نے کہا کہ آیت الذین امنوا ولم یلبسوآ اےمانہم بظلم ( الانعام:82 ) حضرت ابراہیم ہی کا مقولہ ہے اور حاکم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نکالا کہ یہ آیت حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھ والوں کے حق میں ہے۔