‌صحيح البخاري - حدیث 335

كِتَابُ التَّيَمُّمِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ هُوَ العَوَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: ح وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ الفَقِيرُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِي المَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 335

کتاب: تیمم کے احکام و مسائل باب ہم سے محمد بن سنان عوفی نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ( دوسری سند ) کہا اور مجھ سے سعید بن نضر نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہمیں خبر دی ہشیم نے، انھوں نے کہا ہمیں خبر دی سیار نے، انھوں نے کہا ہم سے یزید الفقیر نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہمیں جابر بن عبداللہ نے کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی تھیں۔ ایک مہینہ کی مسافت سے رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے اور تمام زمین میرے لیے سجدہ گاہ اور پاکی کے لائق بنائی گئی۔ پس میری امت کا جو انسان نماز کے وقت کو ( جہاں بھی ) پالے اسے وہاں ہی نماز ادا کر لینی چاہیے۔ اور میرے لیے غنیمت کا مال حلال کیا گیا ہے۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے بھی حلال نہ تھا۔ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔ اور تمام انبیاء اپنی اپنی قوم کے لیے مبعوث ہوتے تھے لیکن میں تمام انسانوں کے لیے عام طور پر نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
تشریح : ارشاد نبوی جعلت لی الارض مسجدا وطہورا سے ترجمہ باب نکلتا ہے چونکہ قرآن مجید میں لفظ صعیداً طیبا ( پاک مٹی ) کہا گیا ہے لہٰذا تیمم کے لیے پاک مٹی ہی ہونی چاہئیے جو لوگ اس میں اینٹ چونا وغیرہ سے بھی تیمم جائز بتلاتے ہیں ان کاقول صحیح نہیں ہے۔ ارشاد نبوی جعلت لی الارض مسجدا وطہورا سے ترجمہ باب نکلتا ہے چونکہ قرآن مجید میں لفظ صعیداً طیبا ( پاک مٹی ) کہا گیا ہے لہٰذا تیمم کے لیے پاک مٹی ہی ہونی چاہئیے جو لوگ اس میں اینٹ چونا وغیرہ سے بھی تیمم جائز بتلاتے ہیں ان کاقول صحیح نہیں ہے۔