‌صحيح البخاري - حدیث 333

كِتَابُ الحَيْض بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ اسْمُهُ الوَضَّاحُ، مِنْ كِتَابِهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالَتِي مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَكُونُ حَائِضًا، لاَ تُصَلِّي وَهِيَ مُفْتَرِشَةٌ بِحِذَاءِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَتِهِ إِذَا سَجَدَ أَصَابَنِي بَعْضُ ثَوْبِهِ»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 333

کتاب: حیض کے احکام و مسائل باب ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہمیں ابوعوانہ وضاح نے اپنی کتاب سے دیکھ کر خبر دی۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں خبر دی سلیمان شیبانی نے عبداللہ بن شداد سے، انھوں نے کہا میں اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں سنا کہ میں حائضہ ہوتی تو نماز نہیں پڑھتی تھی اور یہ کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( گھر میں ) نماز پڑھنے کی جگہ کے قریب لیٹی ہوتی تھی۔ آپ نماز اپنی چٹائی پر پڑھتے۔ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے کا کوئی حصہ مجھ سے لگ جاتا تھا۔
تشریح : تشریح : حضرت امام قدس سرہ نے یہاں یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ حائضہ عورت اگرچہ ناپاک ہوگئی ہے مگرا س قدر ناپاک نہیں ہے کہ اس سے کسی کا کپڑا چھوجائے تو وہ بھی ناپاک ہوجائے۔ ایسی مشکلات ادیان سابقہ میں تھیں، اسلام نے ان مشکلات کوآسانیوں سے بدل دیا ہے۔ ماجعل علیکم فی الدین من حرج دین میں تنگی نہیں ہے۔ علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: واستنبط منہ عدم نجاسۃ الحائض والتواضع المسکنۃ فی الصلوۃ بخلاف صلوٰۃ المتکبرین علی سجادید غالیۃ الاثمان مختلفۃ الالوان۔ ( قسطلانی ) اس حدیث سے حائضہ کی عدم نجاست پر استنباط کیا گیا ہے اور نماز میں تواضع اور مسکینی پر۔ بخلاف نماز متکبرین کے جوبیش قیمت مصلوں پر جو مختلف رنگوں سے مزین ہوتے ہیں تکبر سے نماز پڑھتے ہیں۔ ( الحمد للہ کہ رمضان شریف 1387ھ میں بحالت قیام بنگلور کتاب الحیض کے ترجمہ سے فراغت حاصل ہوئی والحمدللہ علی ذلک تشریح : حضرت امام قدس سرہ نے یہاں یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ حائضہ عورت اگرچہ ناپاک ہوگئی ہے مگرا س قدر ناپاک نہیں ہے کہ اس سے کسی کا کپڑا چھوجائے تو وہ بھی ناپاک ہوجائے۔ ایسی مشکلات ادیان سابقہ میں تھیں، اسلام نے ان مشکلات کوآسانیوں سے بدل دیا ہے۔ ماجعل علیکم فی الدین من حرج دین میں تنگی نہیں ہے۔ علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: واستنبط منہ عدم نجاسۃ الحائض والتواضع المسکنۃ فی الصلوۃ بخلاف صلوٰۃ المتکبرین علی سجادید غالیۃ الاثمان مختلفۃ الالوان۔ ( قسطلانی ) اس حدیث سے حائضہ کی عدم نجاست پر استنباط کیا گیا ہے اور نماز میں تواضع اور مسکینی پر۔ بخلاف نماز متکبرین کے جوبیش قیمت مصلوں پر جو مختلف رنگوں سے مزین ہوتے ہیں تکبر سے نماز پڑھتے ہیں۔ ( الحمد للہ کہ رمضان شریف 1387ھ میں بحالت قیام بنگلور کتاب الحیض کے ترجمہ سے فراغت حاصل ہوئی والحمدللہ علی ذلک