كِتَابُ الحَيْض بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى النُّفَسَاءِ وَسُنَّتِهَا صحيح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي سُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شَبَابَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُسَيْنٍ المُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: «أَنَّ امْرَأَةً مَاتَتْ فِي بَطْنٍ، فَصَلَّى عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ وَسَطَهَا»
کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: نفاس میں مرنے والی عورت کا نماز جنازہ
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ بن سوار نے، کہا ہم سے شعبہ نے حسین سے۔ وہ عبداللہ بن بریدہ سے، وہ سمرہ بن جندب سے کہ ایک عورت ( ام کعب ) زچگی میں مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اس وقت آپ ان کے ( جسم کے ) وسط میں کھڑے ہو گئے۔
تشریح :
فی بطن سے زچگی کی حالت میں مرنا مراد ہے۔ اس سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ نفاس والی عورت کا حکم پاک عورتوں کا سا ہے۔ کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جنازہ کی نماز ادا فرمائی۔ اس سے ان لوگوں کے قول کی بھی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ موت سے آدمی نجس ہو جاتا ہے۔ یہی حدیث دوسری سند سے کتاب الجنائز میں بھی ہے۔ جس میں نفاس کی حالت میں مرنے کی صراحت موجود ہے۔ مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کوروایت کیا ہے۔
فی بطن سے زچگی کی حالت میں مرنا مراد ہے۔ اس سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ ثابت فرمایا ہے کہ نفاس والی عورت کا حکم پاک عورتوں کا سا ہے۔ کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر جنازہ کی نماز ادا فرمائی۔ اس سے ان لوگوں کے قول کی بھی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ موت سے آدمی نجس ہو جاتا ہے۔ یہی حدیث دوسری سند سے کتاب الجنائز میں بھی ہے۔ جس میں نفاس کی حالت میں مرنے کی صراحت موجود ہے۔ مسلم، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ نے بھی اس حدیث کوروایت کیا ہے۔