كِتَابُ الحَيْض بَابُ المَرْأَةِ تَحِيضُ بَعْدَ الإِفَاضَةِ صحيح وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ إِنَّهَا لاَ تَنْفِرُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «تَنْفِرُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ»
کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: جو عورت طواف افاضہ کے بعد حائض ہو
ابن عمر ابتدا میں اس مسئلہ میں کہتے تھے کہ اسے ( بغیر طواف وداع کے ) جانا نہیں چاہیے۔ پھر میں نے انھیں کہتے ہوئے سنا کہ چلی جائے کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی رخصت دی ہے۔
تشریح :
اس حدیث کے ذیل میں مولانا وحیدالزماں صاحب حیدرآبادی مرحوم نے خوب لکھا ہے، فرماتے ہیں: “ توعبداللہ بن عمر کو جب حدیث پہنچی انھوں نے اپنی رائے اور فتوے سے رجوع کرلیا۔ ہمارے دین کے کل اماموں اور پیشواؤں نے ایسا ہی کیا ہے کہ جدھر حق معلوم ہوا ادھر ہی لوٹ گئے۔ کبھی اپنی بات کی پچ نہیں کی، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی اور امام مالک اور امام احمد سے ایک ایک مسئلہ میں دودو، تین تین، چارچار قول منقول ہیں۔ ہائے ایک وہ زمانہ تھا اور ایک یہ زمانہ ہے کہ صحیح حدیث دیکھ کر بھی اپنی رائے اور خیال سے نہیں پلٹتے بلکہ جو کوئی حدیث کی پیروی کرے اس کی دشمنی پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ”
مقلدین جامدین کا عام طور پر یہی رویہ ہے
سدا اہل تحقیق سے دل میں بل ہے
حدیثوں پر چلنے میں دیں کا خلل ہے
اس حدیث کے ذیل میں مولانا وحیدالزماں صاحب حیدرآبادی مرحوم نے خوب لکھا ہے، فرماتے ہیں: “ توعبداللہ بن عمر کو جب حدیث پہنچی انھوں نے اپنی رائے اور فتوے سے رجوع کرلیا۔ ہمارے دین کے کل اماموں اور پیشواؤں نے ایسا ہی کیا ہے کہ جدھر حق معلوم ہوا ادھر ہی لوٹ گئے۔ کبھی اپنی بات کی پچ نہیں کی، امام ابوحنیفہ اور امام شافعی اور امام مالک اور امام احمد سے ایک ایک مسئلہ میں دودو، تین تین، چارچار قول منقول ہیں۔ ہائے ایک وہ زمانہ تھا اور ایک یہ زمانہ ہے کہ صحیح حدیث دیکھ کر بھی اپنی رائے اور خیال سے نہیں پلٹتے بلکہ جو کوئی حدیث کی پیروی کرے اس کی دشمنی پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ”
مقلدین جامدین کا عام طور پر یہی رویہ ہے
سدا اہل تحقیق سے دل میں بل ہے
حدیثوں پر چلنے میں دیں کا خلل ہے