‌صحيح البخاري - حدیث 327

كِتَابُ الحَيْض بَابُ عِرْقِ الِاسْتِحَاضَةِ صحيح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ المُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ اسْتُحِيضَتْ سَبْعَ سِنِينَ، فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، فَقَالَ: «هَذَا عِرْقٌ» فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 327

کتاب: حیض کے احکام و مسائل باب: استحاضہ کی رگ کے بارے میں ہم سے ابراہیم بن منذر حزامی نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انھوں نے ایوب بن ابی ذئب سے، انھوں نے ابن شہاب سے، انھوں نے عروہ اور عمرہ سے، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی ہیں ) کہ ام حبیبہ سات سال تک مستحاضہ رہیں۔ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں غسل کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ رگ ( کی وجہ سے بیماری ) ہے۔ پس ام حبیبہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔
تشریح : استحاضہ والی عورت کے لیے ہرنماز کے وقت غسل کرناواجب نہیں ہے۔یہاں حضرت ام حبیبہ کے غسل کا ذکر ہے جو وہ ہر نمازکے لیے کیا کرتی تھیں۔سویہ ان کی خود اپنی مرضی سے تھا۔حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولااشک ان شاءاللہ ان غسلھا کان تطوعاغیرما امرت بہ وذلک واسع لہا وکذا قال سفیان واللہث بن سعد وغیرھما وذہب الیہ الجمہورمن عدم وجوب الاغتسال الالادبار الحیضۃ ہوالحق لفقد الدلیل الصحیح الذی تقوم بہ الحجۃ۔ ( نیل الاوطار باب طہر المستحاضۃ ) ان شاءاللہ مجھ کو قطعاً شک نہیں ہے کہ حضرت ام حبیبہ کا یہ ہرنماز کے لیے غسل کرنا محض ان کی اپنی خوشی سے بطور نفل کے تھا جمہور کا مذہب حق یہی ہے کہ صرف حیض کے خاتمہ پر ایک ہی غسل واجب ہے۔ اس کے خلاف جو روایات ہیں جن سے ہرنماز کے لیے وجوب غسل ثابت ہوتا ہے وہ قابل حجت نہیں ہیں۔ حضرت علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وجمیع الاحادیث التی فیہا ایجاب الغسل لکل صلوۃ قدذکر المصنف بعضہا فی ہذاالباب و اکثرہا یاتی فی ابواب الحیض وکل واحد منہالایخلو عن مقال۔ ( نیل الاوطار ) یعنی وہ جملہ احادیث جن سے ہر نماز کے لیے غسل واجب معلوم ہوتا ہے ان سب کی سند اعتراضات سے خالی نہیں ہیں۔ پھر الدین یسر ( کہ دین آسان ہے ) کے تحت بھی ہر نماز کے لیے نیا غسل کرنا کس قدر باعث تکلیف ہے۔ خاص کر عورت ذات کے لیے بے حد مشکل ہے۔ اس لیے لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا وقدجمع بعضہم بین الاحادیث بحمل احادیث الغسل لکل صلوۃ علی الاستحباب ( نیل الاوطار ) یعنی بعض حضرات نے جملہ احادیث میں تطبیق دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرنے کی احادیث میں استحباباً کہا گیا ہے۔ یعنی یہ غسل مستحب ہوگا، واجب نہیں۔ استحاضہ والی عورت کے لیے ہرنماز کے وقت غسل کرناواجب نہیں ہے۔یہاں حضرت ام حبیبہ کے غسل کا ذکر ہے جو وہ ہر نمازکے لیے کیا کرتی تھیں۔سویہ ان کی خود اپنی مرضی سے تھا۔حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ولااشک ان شاءاللہ ان غسلھا کان تطوعاغیرما امرت بہ وذلک واسع لہا وکذا قال سفیان واللہث بن سعد وغیرھما وذہب الیہ الجمہورمن عدم وجوب الاغتسال الالادبار الحیضۃ ہوالحق لفقد الدلیل الصحیح الذی تقوم بہ الحجۃ۔ ( نیل الاوطار باب طہر المستحاضۃ ) ان شاءاللہ مجھ کو قطعاً شک نہیں ہے کہ حضرت ام حبیبہ کا یہ ہرنماز کے لیے غسل کرنا محض ان کی اپنی خوشی سے بطور نفل کے تھا جمہور کا مذہب حق یہی ہے کہ صرف حیض کے خاتمہ پر ایک ہی غسل واجب ہے۔ اس کے خلاف جو روایات ہیں جن سے ہرنماز کے لیے وجوب غسل ثابت ہوتا ہے وہ قابل حجت نہیں ہیں۔ حضرت علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وجمیع الاحادیث التی فیہا ایجاب الغسل لکل صلوۃ قدذکر المصنف بعضہا فی ہذاالباب و اکثرہا یاتی فی ابواب الحیض وکل واحد منہالایخلو عن مقال۔ ( نیل الاوطار ) یعنی وہ جملہ احادیث جن سے ہر نماز کے لیے غسل واجب معلوم ہوتا ہے ان سب کی سند اعتراضات سے خالی نہیں ہیں۔ پھر الدین یسر ( کہ دین آسان ہے ) کے تحت بھی ہر نماز کے لیے نیا غسل کرنا کس قدر باعث تکلیف ہے۔ خاص کر عورت ذات کے لیے بے حد مشکل ہے۔ اس لیے لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا وقدجمع بعضہم بین الاحادیث بحمل احادیث الغسل لکل صلوۃ علی الاستحباب ( نیل الاوطار ) یعنی بعض حضرات نے جملہ احادیث میں تطبیق دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر نماز کے لیے غسل کرنے کی احادیث میں استحباباً کہا گیا ہے۔ یعنی یہ غسل مستحب ہوگا، واجب نہیں۔