‌صحيح البخاري - حدیث 326

كِتَابُ الحَيْض بَابُ الصُّفْرَةِ وَالكُدْرَةِ فِي غَيْرِ أَيَّامِ الحَيْضِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: «كُنَّا لاَ نَعُدُّ [ص:73] الكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ شَيْئًا»

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 326

کتاب: حیض کے احکام و مسائل باب: زرد اور مٹیالا رنگ ایام حیض کے ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انھوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، انھوں نے ایوب سختیانی سے، وہ محمد بن سیرین سے، وہ ام عطیہ سے، آپ نے فرمایا کہ ہم زرد اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔
تشریح : یعنی جب حیض کی مدت ختم ہوجاتی تومٹیالے یازرد رنگ کی طرح پانی کے آنے کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔ اس حدیث کے تحت علامہ شوکانی فرماتے ہیں: والحدیث یدل علی ان الصفرۃ والکدرۃ بعدالطہر لیستا من الحیض واما فی وقت الحیض فہما حیض ( نیل الاوطار ) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ طہر کے بعد اگرمٹیالے یازرد رنگ کا پانی آئے تووہ حیض نہیں ہے۔ لیکن ایام حیض میں ان کا آنا حیض ہی ہوگا۔ بالکل برعکس: صاحب تفہیم البخاری ( دیوبند ) نے محض اپنے مسلک حنفیہ کی پاسداری میں اس حدیث کا ترجمہ بالکل برعکس کیا ہے، جو یہ ہے “ آپ نے فرمایاکہ ہم زردا اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے ( یعنی سب کو حیض سمجھتے تھے۔ ) ” الفاظ حدیث پر ذرا بھی غورکیا جائے توواضح ہوگا کہ ترجمہ بالکل برعکس ہے، اس پر خود صاحب تفہیم البخاری نے مزید وضاحت کردی ہے کہ “ ہم نے ترجمہ میں حنفیہ کے مسلک کی رعایت کی ہے۔ ” ( تفہیم البخاری، ج2،ص: 44 ) اس طرح ہر شخص اگراپنے اپنے مزعومہ مسالک کی رعایت میں حدیث کا ترجمہ کرنے بیٹھے گا تو معاملہ کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے۔ مگرہمارے معزز فاضل صاحب تفہیم البخاری کا ذہن محض حمایت مسلک کی وجہ سے ادھر نہیں جاسکا۔ تقلید جامد کا نتیجہ یہی ہونا چاہئیے۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں: ای من الحیض اذا کان فی غیرزمن الحیض امافیہ فہومن الحیض تبعا وبہ قال سعید بن المسیب وعطاءواللہث وابوحنیفۃ ومحمدوالشافعی واحمد ( قسطلانی ) یعنی غیرزمانہ حیض میں مٹیالے یازرد رنگ والے پانی کوحیض نہیں مانا جائے گا، ہاں زمانہ حیض میں آنے پر اسے حیض ہی کہا جائے گا۔ سعید بن مسیب اور عطاء اور لیث اور ابوحنیفہ اور محمد اور شافعی اور احمد کا یہی فتویٰ ہے۔ خدا جانے صاحب تفہیم البخاری نے ترجمہ میں اپنے مسلک کی رعایت کس بنیاد پر کی ہے؟ اللہم وفقنا لماتحب وترضیٰ آمین۔ یعنی جب حیض کی مدت ختم ہوجاتی تومٹیالے یازرد رنگ کی طرح پانی کے آنے کو ہم کوئی اہمیت نہیں دیتی تھیں۔ اس حدیث کے تحت علامہ شوکانی فرماتے ہیں: والحدیث یدل علی ان الصفرۃ والکدرۃ بعدالطہر لیستا من الحیض واما فی وقت الحیض فہما حیض ( نیل الاوطار ) یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ طہر کے بعد اگرمٹیالے یازرد رنگ کا پانی آئے تووہ حیض نہیں ہے۔ لیکن ایام حیض میں ان کا آنا حیض ہی ہوگا۔ بالکل برعکس: صاحب تفہیم البخاری ( دیوبند ) نے محض اپنے مسلک حنفیہ کی پاسداری میں اس حدیث کا ترجمہ بالکل برعکس کیا ہے، جو یہ ہے “ آپ نے فرمایاکہ ہم زردا اور مٹیالے رنگ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے ( یعنی سب کو حیض سمجھتے تھے۔ ) ” الفاظ حدیث پر ذرا بھی غورکیا جائے توواضح ہوگا کہ ترجمہ بالکل برعکس ہے، اس پر خود صاحب تفہیم البخاری نے مزید وضاحت کردی ہے کہ “ ہم نے ترجمہ میں حنفیہ کے مسلک کی رعایت کی ہے۔ ” ( تفہیم البخاری، ج2،ص: 44 ) اس طرح ہر شخص اگراپنے اپنے مزعومہ مسالک کی رعایت میں حدیث کا ترجمہ کرنے بیٹھے گا تو معاملہ کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے۔ مگرہمارے معزز فاضل صاحب تفہیم البخاری کا ذہن محض حمایت مسلک کی وجہ سے ادھر نہیں جاسکا۔ تقلید جامد کا نتیجہ یہی ہونا چاہئیے۔ انا للہ واناالیہ راجعون۔ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں: ای من الحیض اذا کان فی غیرزمن الحیض امافیہ فہومن الحیض تبعا وبہ قال سعید بن المسیب وعطاءواللہث وابوحنیفۃ ومحمدوالشافعی واحمد ( قسطلانی ) یعنی غیرزمانہ حیض میں مٹیالے یازرد رنگ والے پانی کوحیض نہیں مانا جائے گا، ہاں زمانہ حیض میں آنے پر اسے حیض ہی کہا جائے گا۔ سعید بن مسیب اور عطاء اور لیث اور ابوحنیفہ اور محمد اور شافعی اور احمد کا یہی فتویٰ ہے۔ خدا جانے صاحب تفہیم البخاری نے ترجمہ میں اپنے مسلک کی رعایت کس بنیاد پر کی ہے؟ اللہم وفقنا لماتحب وترضیٰ آمین۔