كِتَابُ الحَيْض بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {مُخَلَّقَةٍ وَغَيْرِ مُخَلَّقَةٍ} [الحج: 5] صحيح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا [ص:71]، يَقُولُ: يَا رَبِّ نُطْفَةٌ، يَا رَبِّ عَلَقَةٌ، يَا رَبِّ مُضْغَةٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهُ قَالَ: أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى، شَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ، فَمَا الرِّزْقُ وَالأَجَلُ، فَيُكْتَبُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ
کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: مخلقہ و غیر مخلقہ کی تفسیر
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے عبید اللہ بن ابی بکر کے واسطے سے، وہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحم مادر میں اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ مقرر کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اے رب! اب یہ نطفہ ہے، اے رب! اب یہ علقہ ہو گیا ہے، اے رب! اب یہ مضغہ ہو گیا ہے۔ پھر جب خدا چاہتا ہے کہ اس کی خلقت پوری کرے تو کہتا ہے کہ مذکر یا مونث، بدبخت ہے یا نیک بخت، روزی کتنی مقدر ہے اور عمر کتنی۔ پس ماں کے پیٹ ہی میں یہ تمام باتیں فرشتہ لکھ دیتا ہے۔
تشریح :
اس باب کے انعقاد سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ کو جو خون آجائے وہ حیض نہیں ہے کیونکہ اگر حمل پورا ہے تورحم اس میں مشغول ہوگا اور جوخون نکلا ہے وہ غذا کاباقی ماندہ ہے۔ اگرناقص ہے تورحم نے پتلی بوٹی نکال دی ہے تووہ بچہ کا حصہ کہا جائے گا حیض نہ ہوگا۔
ابن منیر نے کہا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب کی حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ حاملہ کا خون حیض نہیں ہے کیونکہ وہاں ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے اور وہ نجاست کے مقام پر نہیں جاتا۔ ابن منیر کے اس استدلال کو ضعیف کہا گیا ہے۔ احناف اور حنابلہ اور اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ حالت حمل میں آنے والا خون بیماری مانا جائے گا حیض نہ ہوگا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی ثابت فرما رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت آپ نے عنوان مخلقۃ و غیر مخلقۃ اختیار فرمایا ہے۔ روایت مذکورہ اسی طرف مشیرہے، پوری آیت سورۃ حج میں ہے۔
اس باب کے انعقاد سے حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ حاملہ کو جو خون آجائے وہ حیض نہیں ہے کیونکہ اگر حمل پورا ہے تورحم اس میں مشغول ہوگا اور جوخون نکلا ہے وہ غذا کاباقی ماندہ ہے۔ اگرناقص ہے تورحم نے پتلی بوٹی نکال دی ہے تووہ بچہ کا حصہ کہا جائے گا حیض نہ ہوگا۔
ابن منیر نے کہا کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باب کی حدیث سے یہ دلیل لی ہے کہ حاملہ کا خون حیض نہیں ہے کیونکہ وہاں ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے اور وہ نجاست کے مقام پر نہیں جاتا۔ ابن منیر کے اس استدلال کو ضعیف کہا گیا ہے۔ احناف اور حنابلہ اور اکثر حضرات کا مذہب یہ ہے کہ حالت حمل میں آنے والا خون بیماری مانا جائے گا حیض نہ ہوگا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی یہی ثابت فرما رہے ہیں۔ اسی مقصد کے تحت آپ نے عنوان مخلقۃ و غیر مخلقۃ اختیار فرمایا ہے۔ روایت مذکورہ اسی طرف مشیرہے، پوری آیت سورۃ حج میں ہے۔