كِتَابُ الحَيْض بَابُ دَلْكِ المَرْأَةِ نَفْسَهَا إِذَا تَطَهَّرَتْ مِنَ المَحِيضِ، وَكَيْفَ تَغْتَسِلُ، وَتَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَتَّبِعُ أَثَرَ الدَّمِ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِهَا مِنَ المَحِيضِ، فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، قَالَ: «خُذِي فِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ، فَتَطَهَّرِي بِهَا» قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ؟ قَالَ: «تَطَهَّرِي بِهَا»، قَالَتْ: كَيْفَ؟، قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي» فَاجْتَبَذْتُهَا إِلَيَّ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ
کتاب: حیض کے احکام و مسائل
باب: حیض سے پاکی کے بعد غسل
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انھوں نے اپنی ماں صفیہ بنت شیبہ سے، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ آپ نے فرمایا کہ ایک انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے پوچھا۔ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں، آپ نے فرمایا، اس سے پاکی حاصل کر۔ اس نے دوبارہ پوچھا کہ کس طرح؟ آپ نے فرمایا سبحان اللہ! پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ اسے خون لگی ہوئی جگہوں پر پھیر لیا کر۔
تشریح :
اس غسل کی کیفیت مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اچھی طرح سے پاکی حاصل کر پھر اپنے سر پر پانی ڈال تاکہ پانی بالوں کی جڑوںمیں پہنچ جائے پھر سارے بدن پر پانی ڈال۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کی طرف اشارہ کرکے بتلایا کہ اگرچہ یہاں نہ بدن کا ملنا ہے نہ غسل کی کیفیت مگر خوشبو کا پھایہ لینا مذکور ہے۔ تعجب کے وقت سبحان اللہ کہنا بھی اس سے ثابت ہوا۔ عورتوں سے شرم کی بات اشارہ وکنایہ سے کہنا، عورتوں کے لیے مردوں سے دین کی باتیں پوچھنا یہ جملہ امور اس سے ثابت ہوئے، قالہ الحافظ۔
اس غسل کی کیفیت مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ اچھی طرح سے پاکی حاصل کر پھر اپنے سر پر پانی ڈال تاکہ پانی بالوں کی جڑوںمیں پہنچ جائے پھر سارے بدن پر پانی ڈال۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کی طرف اشارہ کرکے بتلایا کہ اگرچہ یہاں نہ بدن کا ملنا ہے نہ غسل کی کیفیت مگر خوشبو کا پھایہ لینا مذکور ہے۔ تعجب کے وقت سبحان اللہ کہنا بھی اس سے ثابت ہوا۔ عورتوں سے شرم کی بات اشارہ وکنایہ سے کہنا، عورتوں کے لیے مردوں سے دین کی باتیں پوچھنا یہ جملہ امور اس سے ثابت ہوئے، قالہ الحافظ۔